لندن میں دوبارہ دستیاب ہوں گے ‘کے سی داس’ کے رس گلے
، اب تارکین وطن برطانیہ میں چکھ سکیں گے متعدد مٹھائیوں کا ذائقہ
لندن میں دوبارہ دستیاب ہوں گے ‘کے سی داس’ کے رس گلے

اسٹاف رپورٹر: کولکتہ کی ایک جھلک جلد ہی لندن پہنچنے والی ہے۔ اب برطانیہ میں مقیم بنگالیوں سے لے کر برطانوی شہریوں تک سب ہی تازہ اور نرم و ملائم ‘اسپنجی’ رس گلے کا لطف اٹھا سکیں گے۔ یہی نہیں، وہاں گرما گرم سموسے، ہینگ کی کچوری، منہ میں پانی بھر لانے والی رس ملائی، کیسر مہاراج بھوگ، چم چم، رس مادھوری، بیکونٹھ بھوگ اور آم بھرا سندیش بھی دستیاب ہوگا۔ سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو اس سال کے وسط تک برمنگھم میں ‘کے سی داس’ کا آو¿ٹ لیٹ کھل جائے گا۔ اس پیش رفت کے پیچھے بھارت اور برطانیہ کے درمیان تجارتی معاہدہ اور درآمدی ڈیوٹی میں کمی اہم عوامل ہیں۔
رس گلے کے موجد نوین چندر داس کے جانشین اور ‘کے سی داس سویٹس’ کے مالک دھیمان داس نے بتایا کہ 1960 میں ان کے بزرگوں نے لندن میں آو¿ٹ لیٹ کھولا تھا، لیکن پانچ سال بعد وہاں دودھ سے متعلق ایک حکومتی حکم نامے کی وجہ سے دکان بند کرنی پڑی تھی۔ اب حالات مختلف ہیں۔ برطانیہ میں روایتی بھارتی فوڈ برانڈز کی بہت زیادہ مانگ ہے، اور نئے معاہدے کے تحت خوراک کی برآمد پر ریگولیٹری اور ٹیکس کا بوجھ بھی تقریباً ختم ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ برطانوی دور حکومت میں باغ بازار کے نوین چندر داس نے رس گلہ ایجاد کیا تھا۔ انہوں نے چھینا (پنیر) سے مٹھائی بنانے کی تکنیک پرتگالیوں سے سیکھی تھی اور پھر اس میں اپنے نئے خیالات شامل کر کے ‘اسپنجی’ رس گلہ تخلیق کیا۔ اب تک لندن میں ‘کے سی داس’ کے صرف ڈبہ بند (Can) رس گلے ہی ملتے تھے، لیکن اب وہاں مٹھائیوں کا مکمل اور بے مثال ذائقہ دستیاب ہوگا۔


