ہمایوں نے زیڈ پلس سیکیورٹی کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے
ہمایوں نے زیڈ پلس سیکیورٹی کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے

کولکتہ 1جنوری : بیلڈانگا کے واقعے کے بعد بھرت پور کے ایم ایل اے ہمایوں کبیر نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ہمایوں نے زیڈ پلس سیکیورٹی کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ریاستی حکومت انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور ان کی جان کو خطرہ ہے۔ آج پیر کو جسٹس شبھرا گھوش کے بنچ میں اس کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس نے انہیں وزارتِ داخلہمیں درخواست دینے کی ہدایت دی ہے۔
حال ہی میں ایک دوسری ریاست میں ایک بنگالی مزدور کی موت کو لے کر مرشد آباد کا بیلڈانگا علاقہ پرتشدد ہو گیا تھا۔ گزشتہ ہفتہ ہمایوں کبیر احتجاجی مقام پر گئے تھے، جہاں انہیں خود مظاہرین کے غصے کا سامنا کرنا پڑا اور وہ کسی طرح وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اس سے قبل بریگیڈ گراو¿نڈ کے معائنے کے دوران بھی انہیں اسی طرح کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا تھا، جہاں ترنمول کارکنوں نے انہیں گھیر کر ‘گو بیک’ کے نعرے لگائے تھے۔ ہمایوں نے ان تمام واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے سیکیورٹی کی اپیل کی تھی۔
ٍ ایم ایل اے نے استدعا کی تھی کہ ‘فی الحال کچھ دنوں کے لیے سیکیورٹی فراہم کی جائے’۔ جسٹس شبھرا گھوش نے کہا کہ جو لوگ سیکیورٹی فراہم کرتے ہیں، وہی طے کریں گے کہ ‘خطرہ’ کتنا ہے۔ اس کے بعد ہی وزارتِ داخلہ فیصلہ کرے گی۔ اسی لیے جسٹس نے وزارتِ داخلہ سے رجوع کرنے کو کہا۔ ہمایوں کے وکیل کا موقف تھا کہ جب تک درخواست قبول نہیں ہوتی تب تک سیکیورٹی دی جائے، تاہم عدالت نے اس استدعا کو قبول نہیں کیا۔نئی پارٹی کی تشکیل کے بعد ہمایوں نے بریگیڈ میں ایک جلسہ کرنے کی بات کہی ہے اور وہ اس کی اجازت لینے بھی گئے تھے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہیں اجازت نہیں ملی۔ اب ہمایوں کبیر مرشد آباد میں ہی جلسہ کریں گے۔


