
مقناطیس کی مدد سے ہی پھیپھڑوں میں پھنسے مقناطیس کو نکال کر میڈیکل کالج کے ڈاکٹروں نے بچائی بچے کی جان
مقناطیس کی مدد سے ہی پھیپھڑوں میں پھنسے مقناطیس کو نکال کر میڈیکل کالج کے ڈاکٹروں نے بچائی بچے کی جان
چھ سالہ بچے کی جان بچانے کے لیے ڈاکٹروں نے ہر ممکن کوشش کی۔ ایک یا دو بار نہیں بلکہ کم از کم بارہ مرتبہ کوشش کی گئی، لیکن ہر بار ناکامی ہاتھ لگی۔ اس کے باوجود ڈاکٹروں نے ہمت نہیں ہاری۔ بچے کے پھیپھڑے میں پھنسے مقناطیس کو نکالنے کے لیے ایک ڈاکٹر مانک تلہ کی لیتھ مشین فیکٹری تک پہنچ گئے۔ آخرکار تیرہویں کوشش میں ایک مقناطیس کی مدد سے دوسرے مقناطیس کو نکال کر کولکاتا میڈیکل کالج کے ڈاکٹروں نے بچے کو نئی زندگی دے دی۔
گزشتہ منگل کو بادوڑیا کے مہیش پور کے رہنے والے ارافات علی (6) کو اس کی والدہ کولکاتا میڈیکل کالج کے ناک، کان اور گلے کے شعبے کے آو¿ٹ ڈور میں لے کر پہنچیں۔ ڈاکٹر دیپتانشو مکھوپادھیائے نے بتایا کہ بچے کو کھانسی کے ساتھ سانس لینے میں بھی دشواری ہو رہی تھی۔ ارافات کے سینے کا سی ٹی اسکین اور ایکسرے کرنے پر معلوم ہوا کہ تعویذ جیسا دکھائی دینے والا ایک مقناطیس بچے کی سانس کی نالی سے ہوتا ہوا دائیں پھیپھڑے میں پھنس گیا ہے۔
وقت ضائع کیے بغیر بچے کو ناک، کان اور گلے کے شعبے میں داخل کرکے ڈاکٹروں نے اس کی حالت مستحکم کی۔ اس کے بعد بدھ کے روز برونکوسکوپی کے ذریعے مقناطیس نکالنے کی کوشش کی گئی۔ ابتدا میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر دیپتانشو مکھوپادھیائے نے فورسیپس کی مدد سے دائیں پھیپھڑے میں پھنسے مقناطیس کو نکالنے کی کوشش کی۔ چار مرتبہ کوشش کے باوجود کامیابی نہیں ملی تو شعبے کے سربراہ ڈاکٹر سومندرناتھ بندوپادھیائے نے ’آپریشن مقناطیس‘ شروع کیا۔ لیکن وہ بھی کامیاب نہیں ہو سکے۔
ڈاکٹر دیپتانشو نے بتایا، ”فورسیپس سے پھنسے ہوئے مقناطیس کو پکڑنا ہی ممکن نہیں ہو رہا تھا۔ کسی بھی طرح اسے ووکل کارڈ کے اوپر نہیں لا پا رہے تھے۔ جتنی بار کوشش کی، ہر بار وہ ہاتھ سے پھسل جاتا تھا۔“
بچے کی سانس جاری رکھنے کے لیے گلے میں سوراخ کرکے ٹریکیوسٹومی کی گئی تھی۔ اس سوراخ کے ذریعے ایک خاص قسم کی ٹیوب داخل کرکے ڈاکٹروں نے ناک اور منہ کے متبادل راستے سے سانس لینے کا انتظام کیا۔ اس راستے سے بھی مقناطیس نکالنے کی کوشش ناکام رہی۔
تاہم کولکاتا میڈیکل کالج کے ای این ٹی شعبے کے ڈاکٹروں نے ہمت نہیں ہاری۔ کارڈیو تھوراسک شعبے کی مدد سے تھوراکوٹومی کے ذریعے بچے کے سینے میں پھنسے مقناطیس کو نکالنے کے لیے ایس ایس کے ایم اسپتال سے رابطہ کیا گیا۔ تھوراکوٹومی ایک طبی طریقہ? کار ہے، جس میں مریض کی پسلیوں کے درمیان راستہ بنا کر کارڈیو تھوراسک سرجن آپریشن کرتے ہیں۔
لیکن جمعرات کی صبح تک ارافات کے لیے ایس ایس کے ایم اسپتال میں پی آئی سی یو (پیڈیاٹرک انٹینسیو کیئر یونٹ) کا بستر دستیاب نہیں ہو سکا۔ ایسے حالات میں ڈاکٹروں کی آپسی گفتگو کے دوران مقناطیس سے ہی مقناطیس نکالنے کا خیال سامنے آیا۔
چھ سالہ بچے کی جان بچانے کے لیے واقعی ایسا ممکن ہے یا نہیں، یہ جاننے کے لیے جمعرات کی صبح ڈاکٹر دیپتانشو مانک تلہ پہنچ گئے۔ مانک تلہ میں کئی لیتھ مشین کی فیکٹریاں ہیں۔ وہاں ایک فیکٹری کے ملازم پربھاکر کانڑار سے رابطہ کرکے بچے کی طبی حالت بتائی گئی۔ ڈاکٹر نے اپنے موبائل میں موجود ایکسرے کی تصویر دکھا کر مقناطیس کے سائز کے بارے میں بھی معلومات دیں۔
پربھاکر نے ڈاکٹر کو بتایا کہ بچے کے پھیپھڑے میں پھنسا مقناطیس زیادہ طاقتور نہیں ہے۔ عام طور پر اس طرح کے مقناطیس کھلونوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپریشن میں استعمال ہونے والے آلات میں لوہا ہونے کے باوجود وہ کام نہیں کر رہے تھے۔ اس کے لیے ایک طاقتور مقناطیس تیار کرنا ہوگا، جو وہ بنا سکتے ہیں۔
ہاوڑہ کے شیام پور کے رہنے والے پربھاکر نے بتایا، ”مجھے کہا گیا تھا کہ ایسا مقناطیس بنانا ہوگا جسے فورسیپس کے سرے پر لگا کر پھیپھڑے تک پہنچایا جا سکے۔ ڈاکٹر صاحب نے جس سائز کے بارے میں بتایا تھا، میں نے اسی کے مطابق ایک طاقتور مقناطیس تیار کیا۔ تاکہ میرے بنائے ہوئے مقناطیس کی مدد سے اندر پھنسے مقناطیس کو آسانی سے باہر کھینچا جا سکے۔ یہ سوچ کر بہت خوشی ہو رہی ہے کہ میرے بنائے ہوئے مقناطیس کی وجہ سے ایک بچے کی جان بچ گئی۔“
پربھاکر کا تیار کردہ مقناطیس لے کر دوپہر میں اسپتال پہنچتے ہی آپریشن کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ ای این ٹی شعبے کے سربراہ ڈاکٹر سومندرناتھ بندوپادھیائے کی قیادت میں اینستھیٹسٹ دیباشیش گھوش، آتریئی گھوش کے علاوہ چھ ڈاکٹروں کی ٹیم میں ڈاکٹر دیپتانشو مکھوپادھیائے، شوبھرجیت نسکر اور اودیتا سورین شامل تھے۔
پربھاکر کے تیار کردہ مقناطیس نے کام کر دکھایا۔ سائز میں چھوٹا ہونے کے باوجود اس نے اندر پھنسے مقناطیس کو اپنی جانب کھینچ لیا۔ ارافات کی سانس جاری رکھنے کے لیے جو ٹریکیوسٹومی کی گئی تھی، اس میں ایک ٹیوب داخل کرکے ایسا انتظام کیا گیا کہ مقناطیس دوبارہ پھیپھڑے میں نہ جا سکے۔ اس کے بعد ٹریکیوسٹومی کے سوراخ کے ذریعے ہی بچے کے پھیپھڑے میں تین دن سے پھنسا مقناطیس باہر نکال لیا گیا۔
کامیاب آپریشن کے بعد ڈاکٹر دیپتانشو نے کہا، ”بچے کے دونوں پھیپھڑوں میں ہوا کی آمدورفت شروع ہو گئی ہے۔ فی الحال وہ آئی سی یو میں زیر علاج ہے۔ ا±ف، ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے کوئی جنگ جیت لی ہو!“


