نشستوں کی تقسیم پر تعطل، حلیفوں کے اختلافات سے سی پی ایم اور آئی ایس ایف اتحاد میں علیحدگی کے آثار

نشستوں کی تقسیم پر تعطل، حلیفوں کے اختلافات سے سی پی ایم اور آئی ایس ایف اتحاد میں علیحدگی کے آثار

سی پی ایم اور آئی ایس ایف کے درمیان نشستوں کی تقسیم کو لے کر سخت سودے بازی جاری ہے۔ جمعرات کی رات تک علی م الدین اسٹریٹ پر بائیں بازو کے فرنٹ (لیفٹ فرنٹ) کے چیئرمین بیمان بوس اور سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری محمد سلیم کے ساتھ آئی ایس ایف کے چیئرمین اور ایم ایل اے نوشاد صدیقی کی ملاقات ہوئی۔ سی پی ایم کی جانب سے آئی ایس ایف کو تقریباً 25 نشستیں چھوڑنے کی بات کہی گئی ہے، لیکن آئی ایس ایف 43 نشستوں کا مطالبہ کر رہی ہے۔ گزشتہ اتوار کو آئی ایس ایف کی ریاستی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ لیفٹ فرنٹ سے 43 نشستیں مانگی جائیں گی۔ اسی کے مطابق، آج نوشاد نے بیمان اور سلیم کے سامنے 43 نشستوں کا مطالبہ رکھا۔ دباو¿ ڈالنے کی صورت میں سی پی ایم آئی ایس ایف کو زیادہ سے زیادہ 30 نشستیں دینے پر راضی ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ نشستوں کے حوالے سے لیفٹ فرنٹ کی جانب سے فیصلہ لینے میں تاخیر کی وجہ سے، نوشاد صدیقی نے اشارہ دیا تھا کہ وہ بائیں بازو کے لیے نشستیں چھوڑ کر اپنی پسندیدہ نشستوں پر امیدواروں کا اعلان کر دیں گے۔ انہوں نے پیغام دیا تھا کہ وہ رواں ہفتے کے آخر تک انتظار کر کے کچھ نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کر دیں گے، جس نے سی پی ایم کو عملاً دباو¿ میں ڈال دیا تھا۔ اس کے بعد ہی جمعرات کو ہنگامی طور پر نشستوں کے سمجھوتے کے لیے نوشاد صدیقی کے ساتھ بیمان اور سلیم کی میٹنگ ہوئی۔ تاہم، رات گئے ملاقات کے بعد نوشاد نے کہا کہ ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ کتنی نشستیں چھوڑی جائیں گی۔
سی پی ایم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کی ضلعی کمیٹیوں اور بائیں بازو کی دیگر حلیف جماعتوں کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔ دوسری طرف، نوشاد نے ان نشستوں کے حق میں دلائل دیے جنہیں سی پی ایم چھوڑنے کو تیار نہیں تھی، تاکہ ان کے مطالبے کے مطابق نشستیں مل سکیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایک بڑا اتحاد بنے گا۔ ادھر، لیفٹ فرنٹ کے اندر سیٹوں کی تقسیم پر فارورڈ بلاک اور آر ایس پی (RSP) ناراض ہیں۔ کانگریس کے اتحاد میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے حلیف جماعتیں گزشتہ 2021 کے انتخابات کے مقابلے میں اس بار کچھ زیادہ نشستوں کا مطالبہ کر رہی ہیں، جسے سی پی ایم دینے سے انکاری ہے۔
سیٹوں کے سمجھوتے کے حوالے سے محمد سلیم نے ہمایوں کبیر کے ساتھ بھی ملاقات کی ہے۔ ‘میم’ (MIM) کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سی پی ایم نے ان سے بھی رابطہ کیا ہے۔ یعنی سلیم چاہتے ہیں کہ نوشاد، ہمایوں اور میم کو لے کر ایک وسیع اتحاد بنایا جائے، جس پر سی پی ایم کے اندر ہی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سی پی ایم کے بیشتر رہنما یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ میم یا ہمایوں جیسی جماعتوں کے ساتھ سمجھوتہ کیوں کیا جائے جو فرقہ وارانہ سیاست کو ہوا دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تو شاید سنگھ پریوار کے ساتھ بھی اتحاد ہو جائے۔ سی پی ایم کے اس موقف پر فرنٹ کی حلیف جماعتوں کے رہنما بھی ناراض ہیں، وہ آئی ایس ایف، میم اور ہمایوں جیسی قوتوں کے ساتھ اتحاد نہیں چاہتے۔
Back to top button
Translate »