ترنمول اور بی جے پی کو ایک صف میں کھڑا کر کے 10 نشستوں پر لڑے گی لبریشن
ترنمول اور بی جے پی کو ایک صف میں کھڑا کر کے 10 نشستوں پر لڑے گی لبریشن

کولکاتا16مارچ :بنگال کے انتخابی دنگل میں رنگ بدلنے کا سلسلہ جاری ہے! اب ودھان سبھا انتخابات سے قبل سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن نے ایک بار پھر اپنی پالیسی بدل لی ہے۔ اب تک بی جے پی کو واحد سیاسی ‘دشمن’ قرار دینے والی جماعت نے اب ترنمول اور بی جے پی کو ایک ہی صف میں کھڑا کر کے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیر کے روز لبریشن کے ریاستی سکریٹری ابھیجیت مجومدار نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 26 کے انتخابات میں 10 نشستوں پر مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ وسیع تر بائیں بازو کے اتحاد کی تشکیل نو کے مقصد سے سی پی ایم کے ساتھ بات چیت کے بعد لیا گیا ہے۔ امیدواروں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
‘بنگال کی سرزمین پر بائیں بازو کا احیائ چاہتے ہیں’ – اس نعرے کے ساتھ گزشتہ سال کے آخر میں سی پی آئی (ایم ایل) نے ریاستی کانفرنس منعقد کی تھی۔ وہاں بنگال میں بی جے پی کی فرقہ وارانہ تقسیم کی سیاست کو روکنے کی کال دی گئی تھی۔ وسیع تر بائیں بازو کے اتحاد کی تشکیل کے بارے میں بار بار پیغام دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ 26 کے انتخابات سے قبل لبریشن کے آل انڈیا جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ نے خود بی جے پی کے ساتھ ترنمول کو ایک ہی صف میں رکھنے کے خلاف بار بار اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔ لبریشن کی جانب سے ایک بار پھر واضح کیا گیا تھا کہ ترنمول کے بارے میں سی پی ایم کا اندازہ غلط ہے۔ دیپانکر بھٹاچاریہ کے مطابق، بنگال میں بائیں بازو کے احیاءکی ضرورت ہے۔ تیسری قوت ابھر کر سامنے آئے۔ ضرورت پڑنے پر بی جے پی کو روکنے کے لیے لبریشن ترنمول کی حمایت کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹی تھی۔

