بھاگیرتھی بستیوں کو نگل رہی ہے، اگرودویپ کے لوگ خوف کے مارے راتوں کو جاگتے ہیں

بھاگیرتھی بستیوں کو نگل رہی ہے، اگرودویپ کے لوگ خوف کے مارے راتوں کو جاگتے ہیں

انتخابات آتے ہیں، انتخابات جاتے ہیں، لیکن کوئی حل نہیں ملا! بھاگیرتھی بستیوں کو نگل رہی ہے، اگرودویپ کے لوگ خوف کے مارے راتوں کو جاگتے ہیں۔ بنگال اسمبلی انتخابات (West Bengal Assembly Election) آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، لیکن کٹووا کے علاقے اگرودویپ کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ بھاگیرتھی دریا کا کٹاو¿ ایک طویل عرصے سے ایک لعنت بن چکا ہے۔ اگرودویپ پنچایت علاقے کے کم از کم پانچ بوتھس کے رہائشی آج بھی کٹاو¿ کے خوف میں دن گزار رہے ہیں۔ کئی خاندانوں کے گھر بار پہلے ہی دریا برد ہو چکے ہیں اور کاشتکاری کی زمین بھی ضائع ہو چکی ہے۔ الزام ہے کہ بار بار وعدوں کے باوجود مستقل حل اب بھی ادھورا ہے۔
بھاگیرتھی کے ساحلی علاقے چر وشنو پور میں کٹاو¿ کی ہولناکی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ مون سون کے علاوہ سال کے تقریباً ہر وقت دریا کے کناروں کے گرنے کی آوازیں سنی جاتی ہیں۔ ایک کے بعد ایک درخت آنکھوں کے سامنے دریا میں سما رہے ہیں۔ یہی حال چر کویراج پور اور چر کالیکا پور کا بھی ہے۔

Back to top button
Translate »