صبح اور شام انتخابی مہم، انتخابات کے نقارے نے بینڈ اور تاشہ پارٹیوں کی چاندی کر دی۔
صبح اور شام انتخابی مہم، انتخابات کے نقارے نے بینڈ اور تاشہ پارٹیوں کی چاندی کر دی۔
چیت کا مہینہ اور ‘مل ماس’ (نامبارک مہینہ) ہونے کی وجہ سے فی الحال شادیوں یا دیگر تقریبات کا سیزن نہیں ہے۔ ایسے وقت میں جب ڈھول، بینڈ باجا اور تاشہ پارٹیوں کے پاس کوئی کام نہیں ہوتا، اس بار اسمبلی انتخابات کے شور نے ان کی قسمت بدل دی ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنی میٹنگوں اور ریلیوں میں کارکنوں اور حامیوں کا ہجوم بڑھانے اور رونق لگانے کے لیے بڑے پیمانے پر بینڈ باجا کرائے پر لے رہی ہیں۔
رانی نگر کے ایک بینڈ مالک تاپس منڈل بتاتے ہیں کہ عام طور پر سال میں صرف چند شادیوں اور پوجا کے وسرجن کے وقت ہی کام ملتا ہے۔ لیکن اس بار انتخابات کی وجہ سے ان کے لیے یہ ‘سنہرا وقت’ ثابت ہو رہا ہے۔ جو لوگ اب تک فارغ بیٹھے تھے اور جن کے سازوں پر دھول جم رہی تھی، انتخابی مہم شروع ہوتے ہی ان کے پاس کام کا سیلاب آ گیا ہے۔ اب چاہے گاو¿ں ہو یا شہر، ہر سیاسی جماعت کے جلوس میں ڈھول، ٹرمپٹ اور بینڈ کی مانگ ہے۔ سیاسی جماعتوں سے ملنے والے کرائے سے ان کی اچھی خاصی آمدنی ہو رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ جب بھی انتخابات آتے ہیں، چاہے وہ اسمبلی ہوں، لوک سبھا یا پنچایت، وہ مہینہ ان کے لیے بہت اچھا گزرتا ہے۔

