ایس آئی آر کےلئے تحریک چلانے والے مفکر الاسلام کو این آئی اے کے حوالے کردیا گیا

ایس آئی آر کےلئے تحریک چلانے والے مفکر الاسلام کو این آئی اے کے حوالے کردیا گیا

مالدہ کے کالیا چک کے موتھاباری میں بی ڈی او آفس میں ججوں کو قید کرنے کے واقعے میں گرفتار وکیل مفکر الاسلام اور ان کے ساتھی اکرام الحق باغانی کو بینک شال کورٹ نے 27 اپریل تک این آئی اے (NIA) کی تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) نے عدالت سے دونوں ملزمان کی تحویل مانگی تھی۔ این آئی اے کا الزام ہے کہ مفکر الاسلام سوجاپور میں قومی شاہراہ کی ناکہ بندی کے ماسٹر مائنڈ ہیں اور انہوں نے ہی ہنگامہ آرائی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے لیے اکسایا تھا۔ایجنسی نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کی موجودگی کے باوجود حالات کے پرتشدد ہونے کے پیچھے مفکر الاسلام کا ہاتھ تھا۔ سچائی تک پہنچنے کے لیے ان سے پوچھ گچھ اور ان کے موبائل فونز کی جانچ ضروری ہے۔
ملزم کے وکیل امتیاز احمد نے ضمانت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ مفکر الاسلام ایک وکیل ہیں، ان کے فرار ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ تاہم، عدالت نے ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔یکم اپریل کو ایس آئی آر (SIR) کی مخالفت میں موتھاباری میں سات ججوں کو طویل وقت تک محبوس رکھا گیا تھا، جس سے ریاست کی سیاست میں ہنگامہ مچ گیا تھا۔یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا تھا، جس کی ہدایت پر اب این آئی اے اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔اس کیس میں اب تک مجموعی طور پر 49 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور این آئی اے نے 12 مقدمات درج کیے ہیں۔
بینک شال کورٹ کے چیف جج سکمار رائے نے تمام دلائل سننے کے بعد دونوں ملزمان کو 27 اپریل تک مرکزی ایجنسی کی تحویل میں دے دیا۔

Back to top button
Translate »