گائے لے جانے کے الزام میں چار مسلم نوجوان گرفتار
گائے لے جانے کے الزام میں چار مسلم نوجوان گرفتار

ریاستی حکومت نے مویشی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اس کے فوراً بعد منگل کو کاٹویا میں بھاگیرتھی ندی کے ذریعے مویشی اسمگل کرنے کی کوشش کا الزام سامنے آیا ہے۔ مادھائی تلا علاقے میں مقامی لوگوں نے 5 گایوں کے ساتھ چار افراد کو روک لیا۔ ان سے قانونی دستاویزات دکھانے کا مطالبہ کیا گیا، لیکن وہ کوئی کاغذات پیش نہ کر سکے۔ اس کے بعد مقامی لوگوں نے ان چاروں کو روک کر پولیس کو اطلاع دی۔ کاٹویا تھانہ کی پولیس نے موقع پر پہنچ کر انہیں وہاں سے نکالا۔ پولیس نے ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد کے نام رحیم شیخ، مجاہد الدین شیخ، شیخ محی اللہ اور سلام انصاری ہیں۔ رحیم کاٹویا کے کھجور ڈیہی گاو¿ں کا رہنے والا ہے۔ سلام انصاری کاٹویا کے قدم پوکر علاقے کا رہائشی ہے، جبکہ باقی دو افراد نادیہ ضلع کے ناکاشی پاڑا علاقے کے رہنے والے ہیں۔ منگل کو یہ چاروں افراد کاٹویا بس اسٹینڈ سے ہوتے ہوئے چانپا پوکر کے راستے بھاگیرتھی چھڑا کالی گھاٹ کی طرف جا رہے تھے۔ ان کے ساتھ پانچ گائیں تھیں۔ مادھائی تلا کے قریب کچھ مقامی لوگوں نے انہیں روکا۔ الزام ہے کہ ان 5 گایوں کو غیر قانونی طور پر بھاگیرتھی ندی کے ذریعے اسمگل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ تاہم، اس دن دوپہر تک کوئی مخصوص ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تھی۔ گایوں کو عارضی طور پر ایک آشرم کے اصطبل میں رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
بجرنگ دل کی کاٹویا سٹی کمیٹی کے کوآرڈینیٹر بنٹی سرکار نے کہا، "حکومت نے غیر قانونی مویشی اسمگلنگ بند کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے باوجود یہ غیر قانونی کاروبار چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہم نے اور کچھ مقامی رہائشیوں نے ان گایوں کے قانونی کاغذات دیکھنا چاہے، لیکن جب وہ نہیں دکھا سکے تو ہم نے انہیں روک کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس واقعے پر ایف آئی آر درج کی جائے گی۔” حراست میں لیے گئے افراد میں سے رحیم شیخ نے بتایا، "مجھے ان گایوں کو ندی کے گھاٹ تک پہنچانے کی ذمہ داری دی گئی تھی، جس کے بدلے مجھے 1500 روپے ملے تھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ گائیں کہاں لے جائی جا رہی تھیں۔”

