بنگلہ دیش میں دیپو داس کے قتل کے خلاف بھارت-بنگلہ دیش سرحد کے مختلف علاقوں میں شدید احتجاج
بنگلہ دیش میں دیپو داس کے قتل کے خلاف بھارت-بنگلہ دیش سرحد کے مختلف علاقوں میں شدید احتجاج

مالدہ 24دسمبر: اولڈ مالدہ کے منوہر پور مچیا سرحدی علاقے میں ہندو برادری کے لوگوں نے ہاتھ میں خول اور کرتال (مذہبی آلاتِ موسیقی) لے کر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے "ہندو ہندو بھائی بھائی” کے نعرے لگائے اور دنیا بھر کے ہندوو¿ں سے متحد ہونے کی اپیل کی۔
بونگاو¿ں اور پیٹرا پول میں بی جے پی کا مظاہرہ: شمالی 24 پرگنہ کے بونگاو¿ں میں واقع پیٹرا پول سرحد پر بی جے پی نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ اس موقع پر بی جے پی کے ایم ایل اے اسیم سرکار اور دیگر رہنماو¿ں کی موجودگی میں علامتی پتلے نذرِ آتش کیے گئے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ دیپو داس کے قاتلوں کو فوری اور سخت سزا دی جائے۔ احتجاج میں شامل جیوتسنا سرکار نامی خاتون نے کہا، "بنگلہ دیش میں ہندوو¿ں پر مظالم بند نہ ہوئے تو یہ احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا، پھر ہم سرحد کی باڑ (Fencing) کی بھی پرواہ نہیں کریں گے۔
ایم ایل اے اسیم سرکار نے کہا کہ اگر ابھی بنگلہ دیش کی صورتحال کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی تو یہ پوری دنیا کے لیے خطرہ بن جائے گا۔ مظاہرین نے محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر مزید کسی ہندو پر حملہ ہوا تو احتجاج کی یہ لہر بنگلہ دیش کے اندر تک پہنچے گی۔اس احتجاج کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی اس کا اثر پڑا ہے۔کیا آپ سرحد کی موجودہ صورتحال یا ٹریفک کے حوالے سے مزید تازہ ترین معلومات جاننا چاہتے ہیں؟

