راتوں رات ترنمول کے باغی ایم پی نے این سی پی آئی کے نام سے نئی پارٹی قائم کر لی
راتوں رات ترنمول کے باغی ایم پی نے این سی پی آئی کے نام سے نئی پارٹی قائم کر لی
مغربی بنگال کی سیاسی گفتگو کا مرکز بن چکی ہے نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا یا این سی پی آئی۔ اتوار کی شام تک اس نام سے کوئی سیاسی پارٹی موجود ہے، یہ کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ پارٹی کا نام پہلی بار اس وقت سنا گیا، جب ترنمول کے باغی اراکینِ پارلیمان نے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا سے مل کر بتایا کہ ان کا بلاک این سی پی آئی میں ضم ہو رہا ہے۔ اچانک عوام کے تجسس کا مرکز بننے والی اس این سی پی آئی نے اب فیس بک پیج بھی کھول لیا۔ اس رپورٹ لکھنے کے وقت پیج پر فالورز کی تعداد 870 تھی۔ یہ تعداد بتدریج بڑھ رہی ہے۔
این سی پی آئی کے فیس بک پیج پر ترنمول کے باغی اراکینِ پارلیمان میں سے ہر ایک کا استقبال کیا گیا ہے۔ باراسات کے رکنِ پارلیمان کاکلی گھوش داستیدار کو لوک سبھا میں پارٹی لیڈر کے طور پر مبارکباد دیتے ہوئے ایک پوسٹ کی گئی۔ بعد میں البتہ اسے ہٹا دیا گیا۔ ایک اور پوسٹ میں این سی پی آئی کی طرف سے ایک گرافک پوسٹ کر کے دعویٰ کیا گیا ہے کہ لوک سبھا میں اراکینِ پارلیمان کی تعداد کے لحاظ سے وہی مغربی بنگال کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔ اس گرافک میں دکھایا گیا ہے کہ اس ریاست میں بی جے پی کے 12 لوک سبھا اراکینِ پارلیمان ہیں۔ ترنمول کے اراکینِ پارلیمان کی تعداد 8 ہے۔ کانگریس کا ایک۔ اور لوک سبھا میں این سی پی آئی کے اراکینِ پارلیمان کی تعداد 20 ہے۔ اس گرافک کے ساتھ لکھا گیا ہے، ”لوک سبھا میں 20 نشستوں کے ساتھ این سی پی آئی اب پارلیمانی قوت کے لحاظ سے مغربی بنگال کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ قومی سطح پر ریاست کی آواز۔“
فیس بک پیج پر دی گئی معلومات کے مطابق، اس سیاسی پارٹی کا مرکزی دفتر ہاوڑہ کے سانکرائیل تھانہ علاقے کے ہاٹگاچھا گاو¿ں میں واقع ہے۔ ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ دراصل تری پورہ میں ظہور پذیر ہونے والی اس سیاسی پارٹی کی مغربی بنگال میں ایک اہم تنظیمی ذمہ داری نبھا رہی ہیں ہاٹگاچھا کی ہی رہائشی شیولی کنڈو۔ مقامی لوگوں کے ایک حصے کا کہنا ہے کہ پیشے سے وکیل شیولی طویل عرصے سے سماجی خدمات کے کاموں سے منسلک ہیں۔ وہ ایک رضاکار تنظیم چلاتی ہیں۔ ان کے شوہر ا±تیہ کنڈو بھی اس کام میں تعاون کرتے تھے۔ مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ 2022 سے ہاٹگاچھا میں این سی پی آئی موجود ہے۔ 2023 میں پنچایت انتخابات میں حصہ لیا تھا اس پارٹی نے۔ بعد میں البتہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں کہیں بھی امیدوار نہیں دیا تھا۔
اتوار کی شام کے بعد عملی طور پر نامعلوم اس پارٹی کے گرد بحث شروع ہوتے ہی ہاٹگاچھا کے پارٹی دفتر کے سامنے بہت سے لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے۔ تاہم وہاں جا کر آواز لگانے کے باوجود کسی کو نہیں پایا گیا۔ پیدا شدہ صورت حال کو مدِنظر رکھتے ہوئے این سی پی آئی کے دفتر کے سامنے پولیس اور مرکزی فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ علاقہ مکینوں کا دعویٰ ہے کہ 2023 کے پنچایت انتخابات کے دوران ہاوڑہ کے جھوڑہاٹ گاو¿ں پنچایت کی ایک گرام سبھا نشست پر این سی پی آئی نے امیدوار دینے کے بعد پہلی بار انہوں نے اس سیاسی پارٹی کا نام سنا تھا۔ اس کے بعد لوک سبھا اور 2026 کے اسمبلی انتخابات کے دوران پارٹی کو زیادہ فعال نہیں دیکھا گیا، جیسا کہ مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے۔
اتوار کو ہی آنند بازار ڈاٹ کام کی طرف سے این سی پی آئی کے بانی رکن اور اس وقت کے ’نیشنل آرگنائزنگ جنرل سکریٹری‘ شانتنو دیے سے رابطہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا، ”میں اس پارٹی کا بانی رکن ہوں۔ آج کے اس واقعہ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں اس کی مخالفت کرتا۔ اب بھی مخالفت کر رہا ہوں۔“ شانتنو نے ہی بتایا کہ پارٹی کے صدر ا±تیہ کنڈو ہیں۔ ا±تیہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس معاملے (ترنمول کے باغی اراکینِ پارلیمان کے شامل ہونے کے بارے میں) وہ مزید کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ شانتنو کے بارے میں انہوں نے کہا، ”ان کا جو پارٹی میں کردار کی مدت تھی، وہ ختم ہو چکی ہے۔“ پارٹی کی ایک اور خاتون رکن شیولی کنڈو نے کہا، ”میں بانی صدر تھی۔ استعفیٰ دے دیا ہے، اس وقت میں کچھ نہیں کہوں گی، جو کہنا ہے بعد میں کہوں گی۔“ ترنمول کے اس الحاق پر وہ خوش ہیں یا نہیں، یہ پوچھے جانے پر مختصراً ’ہاں‘ کہا اور وہ خیر مقدم کر رہی ہیں۔ تاہم اس سے زیادہ ابھی کچھ نہیں کہنا چاہا۔
پیر کو ہاٹگاچھا میں این سی پی آئی کے دفتر جا کر دیکھا گیا کہ لوہے کے دروازے کے دو کناروں میں سے ایک طرف ا±تیہ کا نام لکھا ہے۔ اور دوسری طرف شیولی کا نام لکھا ہے۔ ا±تیہ کے متعدد تعارف کا بھی وہاں ذکر ہے۔ ا±تیہ یوگا ٹرینر، ریاضی کے استاد ہیں۔ اسی کے ساتھ ایک بنگالی اخبار کے ایڈیٹر کے طور پر بھی ذکر کیا گیا ہے۔ شیولی کا تعارف یہ ہے کہ وہ کلکتہ ہائی کورٹ کی وکیل ہیں۔ قانون کے علاوہ ان کی ریاضی میں بھی ڈگری ہے، جیسا کہ گھر کے دروازے پر لکھا ہے۔ دروازے کے پہلو میں سیاہ تختی پر گھر کا نام ’جاگو وشو‘ (دنیا جاگو) لکھا ہے۔ مقامی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ گھر پہلے رضاکار تنظیم کے دفتر کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ رضاکار تنظیم کا ذکر ا±تیہ اور شیولی کی بیٹی دیپانویتا نے بھی کیا ہے۔ البتہ کسی سیاسی معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ بتایا کہ جو کہنا ہے میرے والدین کہیں گے۔
ایک ذریعے کا دعویٰ ہے کہ این سی پی آئی کے بانیوں کا موجودہ پتہ ہاوڑہ ہونے کے باوجود ان میں سے کچھ دراصل ضلع نادیہ کے رہائشی ہیں۔ نادیہ میں اس پارٹی کے کئی ارکان و حامی موجود ہیں۔ اس ذریعے کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس پارٹی کے بانیوں اور کارکنوں کا ایک بڑا حصہ مرحوم مکول رائے کے قریبی ہونے کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ پارٹی کے اراکین و حامیوں کا بڑا حصہ پھر متوا برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ پچھلے کئی انتخابات میں متوا ووٹ مجموعی طور پر بی جے پی کے حصے میں ہی گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کی فہرست کے مطابق، نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا نام کی ایک پارٹی 2023 میں آر یو پی پی (رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی پارٹی) کی فہرست میں شامل ہوئی۔ کمیشن کی غیر تسلیم شدہ سیاسی پارٹی نے 2023 میں تری پورہ میں اسمبلی انتخابات میں دو نشستوں پر مقابلہ کیا۔ کیلاس ہر اور چو¿مانو نشست پر امیدوار دیے تھے۔ علامت قلم کا نِب اور سات شعاعیں تھی۔ کوئی بھی امیدوار نہیں جیتا۔ کیلاس ہر مرکز میں 286 ووٹ ملے تھے پارٹی کے امیدوار جہانگیر علی کو۔ چو¿مانو کے امیدوار بڑجیدا تری پورہ کو 536 ووٹ ملے۔
افواہوں کے باوجود اتوار کو ترنمول سے علیحدہ ہو کر خود کو ’اصلی ترنمول‘ قرار نہیں دیا لوک سبھا کے باغی 20 اراکینِ پارلیمان نے۔ انہوں نے پناہ لی نئی پارٹی این سی پی آئی میں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی کی بغاوت کے بعد کی صورت حال دیکھ کر ’محتاط‘ ہو گئے لوک سبھا کے باغی۔ لوک سبھا میں تقسیم ہونے سے پہلے ہی ترنمول کے اراکینِ قانون ساز اسمبلی میں بغاوت عیاں ہوئی۔ پارٹی فیصلے کے خلاف جا کر رِتبراتو بندوپادھیائے کو پارلیمانی پارٹی لیڈر چ±ن لیا باغی اراکینِ اسمبلی نے۔ وہی اب اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے لیڈر ہیں۔ ترنمول کے اکثر اراکینِ اسمبلی کی حمایت بھی انہیں حاصل ہے۔ لیکن اس پر عدالت میں مقدمہ بھی ہوا ہے۔ پارٹی سے نکالے گئے کوئی شخص کیسے حزبِ اختلاف کا لیڈر بن سکتا ہے، اس پر سوال اٹھاتے ہوئے ہائی کورٹ میں مقدمہ کیا ہے ترنمول نے۔ وہ مقدمہ ابھی زیرِ سماعت ہے۔ قانونی پہلو کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہی باغی اراکینِ پارلیمان نے ’خطرہ‘ ٹال دیا، ایسا سمجھا جا رہا ہے۔

