برئی پور انکاونٹر معاملے میں پولیس سے رپورٹ طلب کی ہائی کورٹ نے
برئی پور انکاونٹر معاملے میں پولیس سے رپورٹ طلب کی ہائی کورٹ نے
باروئی پور میں انکاو¿نٹر کے واقعے پر ضلعی پولیس سے رپورٹ طلب کی کولکاتا ہائی کورٹ نے۔ کیوں گہری رات میں ملزم کو واقعے کی ازسر نو تشکیل کے لیے لے جایا گیا تھا؟ وہاں کیا کیا ہوا؟ پولیس کو اس کی تفصیل بتاتے ہوئے حلف نامہ جمع کرانے کا حکم دیا ہے عدالت نے۔ آئندہ 18 اگست کو ہائی کورٹ میں اس مقدمے کی اگلی سماعت ہے۔ اس سے قبل ہی پولیس کو حلف نامہ جمع کرانا ہوگا۔
باروئی پور میں نوعمر لڑکی کے اجتماعی آبرو ریزی اور قتل کے واقعے میں چار افراد کو گرفتار کیا تھا پولیس نے۔ ان میں سے ایک اہم ملزم پربھاس منڈل پولیس کی گولی سے ہلاک ہو گیا۔ گرفتاری کے چند دنوں کے اندر گہری رات میں اسے واقعے کے مقام پر لے جایا گیا تھا۔ الزام ہے کہ پولیس کے ہاتھ سے ہتھیار چھین کر فائر کیا پربھاس نے۔ فرار ہونے کی کوشش کی۔ تبھی پولیس کی جوابی فائرنگ سے اس کی موت ہو گئی۔ اس واقعے میں پولیس کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کولکاتا ہائی کورٹ میں عوامی مفاد کا مقدمہ دائر کیا تھا ایک وکیل نے۔ بکاش رنجن بھٹاچاریہ اس مقدمے کی پیروی کر رہے ہیں۔
جمعرات کو کولکاتا ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس تپوبرتا چکرورتی اور جسٹس پارتھا سارتھی چٹوپادھیائے کے ڈویژن بنچ نے کہا کہ ضلعی پولیس کو واقعے کی تفصیلی رپورٹ حلف نامے کی شکل میں جمع کرانی ہوگی۔ مقدمہ کرنے والے کے وکیل کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے انکاو¿نٹر کی جو وجہ بتائی ہے، وہ من گھڑت معلوم ہوتی ہے۔ ملزم کو واقعے کے مقام پر لے جانے کے وقت مناسب حفاظتی انتظامات نہیں تھے۔ ایسے وقت میں اسے وہاں لے جایا گیا کہ اس سے شک مزید مضبوط ہو گیا ہے۔ واقعے کی ویڈیو ریکارڈنگ تھی یا نہیں، یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے۔
پولیس کی طرف سے اس نظریے کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ ریاست کے وکیل نے بتایا کہ ملزم نے جرم قبول کیا تھا۔ اسی وجہ سے اسے واقعے کی ازسر نو تشکیل کے لیے لے جایا گیا تھا۔ ملزم نے فائرنگ کی تو خود دفاع کے لیے پولیس نے جوابی فائرنگ کی اور اس سے پربھاس کی موت ہو گئی۔ باروئی پور کے ضلعی پولیس سپرنٹنڈنٹ ارویند کمار آنند کو واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے عدالت میں رپورٹ جمع کرانی ہوگی۔
باروئی پور کے انکاو¿نٹر کے واقعے کی تحقیقات کا بوجھ ریاستی پولیس کی جاسوسی شاخ سی آئی ڈی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ تفتیشی افسران کے بیانات بھی جاسوسوں نے ریکارڈ کیے ہیں۔ اجتماعی آبرو ریزی اور قتل کے واقعے میں باقی ملزم فی الحال جیل حوالگی میں ہیں۔

