قتل کرنے کے بعد قاتلوں نے فون کرکے قتل کی اطلاع دے دی
قتل کرنے کے بعد قاتلوں نے فون کرکے قتل کی اطلاع دے دی

پالا بدلنے کے بعد بی جے پی کارکنوں پر یکے بعد دیگرے حملوں کی شکایت سے ریاستی سیاست گرم ہے۔ اس ماحول میں اب ہاوڑہ میں بی جے پی کے ایک کارکن کے قتل کا الزام ترنمول پر لگا ہے۔ بدھ کی گہری رات بگنان کے سنتوش پور علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے سے علاقے میں بڑے پیمانے پر کشیدگی پھیل گئی۔ قتل کے بعد اس بی جے پی کارکن کے خاندان کو فون پر ایک ملزم نے بتایا، "مارڈر کر دیا ہے۔ اٹھا کر لے جا۔” قتل کے واقعے میں اب تک پولیس نے 5 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
مقتول بی جے پی کارکن کا نام پرشانت دیو (39) ہے۔ وہ بگنان نمبر 5 منڈل کے 197 نمبر بوتھ کے نائب صدر تھے۔ ان کا گھر بانٹول گاو¿ں میں ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ کل رات ساڑھے 8 سے 9 بجے کے قریب پرشانت گھر سے نکلے تھے۔ پھر دوسرے بی جے پی کارکنوں کے ساتھ بگنان کے سنتوش پور گئے۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک پروگرام کے گھر جانے کے لیے نکلے تھے۔ الزام ہے کہ وہیں پر ترنمول کے غنڈوں نے ان پر حملہ کیا۔ لاٹھی، راڈ سے بری طرح مار پیٹ کی گئی۔ موقعے پر ہی پرشانت دیو کی موت ہو گئی۔ تین دیگر بی جے پی کارکن شدید زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو خونی حالت میں فوری طور پر بگنان دیہی ہسپتال لے جایا گیا۔ وہاں سے ڈاکٹروں نے انہیں کلکتہ کے ایک نرسنگ ہوم میں منتقل کر دیا۔ فی الحال وہیں بی جے پی کارکن زیر علاج ہیں۔
بی جے پی کا الزام ہے کہ بگنان کے اسی علاقے میں ہالان گاو¿ں پنچایت کے نائب صدر مافیذول کا گھر ہے۔ اس علاقے سے گزرتے ہوئے بی جے پی کارکنوں پر حملہ ہوا۔ دوسری طرف ترنمول کا الزام ہے کہ بی جے پی کارکنوں نے خود نائب صدر کے گھر پر حملہ کیا۔ ایس پی امیت ورما نے بتایا کہ اس حملے کے سلسلے میں پولیس نے 5 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ اس واقعے کے احتجاج میں شیم پور-بگنان روڈ کے بانٹول علاقے میں مقامی باشندوں اور بی جے پی کارکنوں حامیوں نے راستہ روک کر مظاہرہ کیا۔

