شوبھندو ادھیکاری نے بروئی پور کی مظلومہ کے والد کو جیل میں تعینات کیا
شوبھندو ادھیکاری نے بروئی پور کی مظلومہ کے والد کو جیل میں تعینات کیا
شروع سے ہی باروئی پور کی مظلومہ کے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں وزیراعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری۔ انصاف کے ساتھ ساتھ ہر طرح کی مدد کا یقین دلایا تھا۔ وعدہ بھی نبھایا۔ کئی بار باروئی پور پہنچے۔ اب ریاست نے مظلومہ کے والد کو کاراگھر (جیل) میں تعینات کیا ہے۔ اس کے ساتھ خاندان کو مالی امداد بھی دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ جب ان کی ذہنی حالت معمول پر آجائے گی تو وہ کاراگھر میں اپنی ڈیوٹی جوائن کریں گے۔دو ہفتے قبل باروئی پور کے سوریا پور میں ایک سفاکانہ واقعہ پیش آیا تھا۔ نابالغ لڑکی کے ساتھ عصمت دری اور قتل کے الزام نے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ غصے میں آئی ہوئی بھیڑ کے ہاتھوں ‘بے گناہ’ اندرجیت منڈل کی موت ہوگئی تھی۔ اس کے بعد وزیراعلیٰ خود سوریا پور پہنچے تھے۔ مظلومہ طالبہ کے خاندان اور مقتول نوجوان کے اہل خانہ سے بات کی۔ ان کی شکایات کو سنجیدگی سے سنا اور پولیس کے اعلیٰ افسران کو انتظامی ہدایات دیں۔ عصمت دری اور قتل کے واقعے میں چار ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ واقعے کی پنر تعمیر (پنرنیرمان) کے دوران انکاو¿نٹر میں مرکزی ملزم پربھاس منڈل مارا گیا۔طالبہ کے خاندان کی درخواست پر وزیراعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے سوریا پور میں ایک پولیس چوکی کا افتتاح کیا ہے۔ اس علاقے کو سی سی ٹی وی کیمروں سے لپیٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مقتولہ طالبہ کے اسکول میں ان کی یاد میں لائبریری تعمیر کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ کی طرف سے ہر قسم کی مدد کا یقین دلایا گیا ہے، مقتولہ کے والد کا دعویٰ ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتہ پولیس چوکی کے افتتاح کے موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا تھا، "خاندان کو بتا کر آیا ہوں کہ کسٹڈی ٹرائل اور کنوکشن ایگزیکیوشن وزیراعلیٰ کی نگرانی میں ہوگا۔ اس کیس میں ایک مثالی مثال قائم کی جائے گی۔ حکومت کی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ حکومت خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔ خاندان کے ساتھ کس طرح کھڑی ہوئی ہے، خاندان جب ضرورت ہوگی بتائے گا۔ میں کچھ نہیں کہوں گا۔” اب عوام کے سامنے مقتولہ کے والد کی نوکری اور مالی امداد کی خبر آئی ہے۔

