کلکتہ میں بھی ‘کاکروچ’ کا مارچ؟ کلکتہ پولیس کو ای میل کے ذریعےاطلاع دی گئی
کلکتہ میں بھی 'کاکروچ' کا مارچ؟ کلکتہ پولیس کو ای میل کے ذریعےاطلاع دی گئی

دہلی کی حدود کو پار کر کے ملک کے مختلف حصوں تک کاکروچ عوام پارٹی کا احتجاج پھیل سکتا ہے! بدھ کو ہی اس حوالے سے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے مرکز نے ریاستوں کو انتباہی پیغام بھیجا تھا۔ اس کے درمیان اب کلکتہ میں مارچ کرنے کے لیے کلکتہ پولیس کو ‘کاکروچ’ کی طرف سے ای میل بھیجا گیا ہے۔ ایک نوجوان نے خود کو ‘کاکروچ’ کا رکن بتاتے ہوئے یہ ای میل کی ہے۔ تاہم ابھی تک پولیس کو واضح نہیں ہے کہ آیا وہ نوجوان واقعی ‘کاکروچ’ کا رکن ہے یا نہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، اس نوجوان نے پہلی بار 19 تاریخ کو کلکتہ میں ‘کاکروچ’ کا پروگرام کرنے کے لیے کلکتہ پولیس کو ایک ای میل بھیجا تھا۔ تاہم پولیس کی طرف سے اسے مسترد کر دیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ منگل کو اس نے ایک اور ای میل کی، جس میں 24 تاریخ کو کالج اسٹریٹ سے رانی راسمونی تک مارچ کرنے کی اجازت مانگی گئی۔ کاکروچ کا رکن ہونے کا دعویٰ کرنے والے اس شخص کی مسلسل دو ای میلز آنے کے بعد کلکتہ پولیس متحرک ہو گئی ہے۔ ای میل پیغام میں سی جے پی یعنی ‘کاکروچ’ کا نام تو ہے، لیکن درخواست گزار کا اس تنظیم سے تعلق ہے یا نہیں، یہ واضح نہیں ہے۔ نتیجتاً اس سلسلے میں پولیس کی طرف سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
آغاز دہلی کے جنتر منتھر سے ہوا تھا۔ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے سمیت متعدد مطالبات پر احتجاج شروع ہوا تھا۔ اس میں معروف ماہر تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگچوک شامل ہوئے تھے۔ انہوں نے غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال شروع کر دی تھی۔ پھر کاکروچ عوام پارٹی کی کال پر سوموار کو لاکھوں طلبہ سڑکوں پر آ گئے۔ انہوں نے پارلیمنٹ ہاو¿س کا محاصرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی احتجاج کی وجہ سے دہلی ہنگامہ خیز ہو گئی۔ احتجاج کے نام پر توڑ پھوڑ کی گئی۔ تاہم کاکروچ کے احتجاج کی لہر ملک کے دیگر حصوں تک بھی پھیل سکتی ہے۔ خاص طور پر ممبئی میں کاکروچ کے احتجاج کے پیش نظر مرکز نے ریاستوں کو خبردار کیا ہے۔اس کے علاوہ، ریاستوں کی سیکورٹی پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج کی لہر پھیلنے پر اس سے نمٹنے کے لیے کافی تیاری ہے یا نہیں، اس کا جائزہ افسران کے ساتھ بات چیت کر کے مرکز نے لیا۔ ساتھ ہی ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہر قسم کی صورت حال کے لیے تیار رہیں۔

