ٹالی گنج کے کالج میں مالی خرد برد کا الزام،سابق لفٹ لیڈر کی گرفتاری کا مطالبہ

ٹالی گنج کے کالج میں مالی خرد برد کا الزام،سابق لفٹ لیڈر کی گرفتاری کا مطالبہ

ٹالی گنج کے کالج میں کروڑوں روپے کی بدعنوانی کا معاملہ کچھ سال قبل ہی سامنے آیا تھا۔ بدعنوانی پر ریاستی سی پی ایم (مارکسی کمیونسٹ پارٹی) نے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر پارٹی نے دو بام لیڈروں گوتم اور پارتھ کو نکال باہر کیا تھا۔ اب سی پی ایم کے مینجمنٹ کمیٹی کے سکریٹری گوتم کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹالی گنج کی بی جے پی ایم ایل اے (رکن قانون ساز اسمبلی) پاپیا ادھکاری نے اسمبلی میں شور مچایا۔اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں پاپیا نے کہا، "ٹالی گنج کے کلکتہ انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ کالج کا آغاز ۲۰۰۳ میں ہوا تھا۔ ممکنہ طور پر تقریباً ۱۰۰ کروڑ روپے کی بے ضابطگی ہوئی ہے۔” اس الزام کے ساتھ ساتھ ایم ایل اے نے مطالبہ کیا، "اس کالج کی مینجمنٹ کمیٹی کے سکریٹری گوتم کو گرفتار کیا جائے۔ تاہم کالج بچ جائے گا۔
پارٹی سطح پر گوتم کے خلاف جو الزامات تھے، آج پاپیا ادھکاری نے انہیں اسمبلی میں ا±ٹھایا۔ ان میں ملازمین کی پراویڈنٹ فنڈ کی رقم جمع نہ کرنا اور ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمین کو ان کی گرچیوٹی (خدمت کے اختتام پر ملنے والی رقم) نہ دینے کا الزام بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ سی پی ایم لیڈر مرحوم پرشانت کمار کے قریبی ساتھی تھے گوتم۔ جس وقت پارٹی نے انہیں نکالا، اس وقت وہ سی پی ایم کے ٹالی گنج-۱ ایریا کمیٹی کے سکریٹری تھے۔ پاپیا نے آج دعویٰ کیا کہ سی پی ایم میں گوتم کے بارے میں زیادہ دلچسپی نہیں ہے، کیونکہ پہلے ہی پارٹی سطح پر ان کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔
Back to top button
Translate »