اوڈیشہ کے جنگل میں پانچ اورانگ اوٹانگ کہاں سے آئے؟ دیگھا سے تین افراد حراست میں

اوڈیشہ کے جنگل میں پانچ اورانگ اوٹانگ کہاں سے آئے؟ دیگھا سے تین افراد حراست میں

اوڈیشہ کے بالیشور کے جنگل سے پانچ اورانگ اوٹانگ برآمد ہونے کے معاملے میں نیا موڑ آ گیا ہے۔ اس کیس کی تفتیش کے دوران اوڈیشہ پولیس نے مغربی بنگال کے مشرقی مدنی پور ضلع کے دیگھا سے تین افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اوڈیشہ پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس (STF) کی اس کارروائی میں مشرقی مدنی پور ضلع پولیس بھی تعاون کر رہی ہے۔
گزشتہ منگل کو بالیشور کے بھوگرائی علاقے میں باراپائی گاو¿ں سے متصل جنگل سے پانچ اورانگ اوٹانگ کو برآمد کیا گیا تھا۔ بھارت میں یہ جانور نایاب ہے۔ اورانگ اوٹانگ بنیادی طور پر انڈونیشیا اور ملائیشیا کے جنگلات میں پائے جاتے ہیں۔ موجودہ دور میں موسمیاتی تبدیلی اور غیر قانونی شکار کے باعث ان کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ اب اورانگ اوٹانگ صرف بورنیو اور سماٹرا کے جنگلات میں پائے جاتے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ وہاں سے اسمگلروں کے ذریعے یہ پانچ اورانگ اوٹانگ اوڈیشہ کے جنگل تک پہنچے ہیں، کیونکہ انسانی مداخلت کے بغیر ایسا ممکن نہیں ہے۔
بالیشور کے مذکورہ جنگل کے آس پاس لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی جانچ کے بعد پولیس نے ایک کالی گاڑی کی شناخت کی۔ یہ گاڑی اورانگ اوٹانگ کی برآمدگی سے ایک رات پہلے جنگل کی سمت گئی تھی اور تقریباً 15 منٹ بعد وہاں سے واپس نکلی تھی۔ اسی گاڑی کے سراغ پر تفتیش کرتے ہوئے اوڈیشہ پولیس دیگھا پہنچی۔
ذرائع کے مطابق، دیگھا پہنچ کر اوڈیشہ ایس ٹی ایف کے اہلکار ایک مخصوص گاڑی کی تلاش کر رہے تھے۔ انہوں نے نیو دیگھا کے کئی ہوٹلوں کا دورہ کیا، سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی اور ہوٹل انتظامیہ سے بات چیت کی۔ اس کے بعد ایک ہوٹل سے تین افراد کو حراست میں لیا گیا۔ تاہم تفتیش کے مفاد میں ان کے نام اور شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ تفتیش کار ان سے پوچھ گچھ کرکے اورانگ اوٹانگ کی اسمگلنگ کے پورے نیٹ ورک تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اوڈیشہ پولیس کے انچارج ڈی جی پی بنای توش مشرا نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے کہا، ”کرائم برانچ کی اسپیشل ٹاسک فورس نے اوڈیشہ کے محکمہ جنگلات کے پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ (PCCF) کی درخواست پر پانچ اورانگ اوٹانگ کی برآمدگی کے معاملے میں جمعہ کو ایک کیس درج کیا ہے۔

Back to top button
Translate »