کورٹ نے ممتا ترنمول کے 21جولائی کے اجتماع پر عدم اطمینان کا اظہار کیا 

کورٹ نے ممتا ترنمول کے 21جولائی کے اجتماع پر عدم اطمینان کا اظہار کیا 

کلکتہ ہائی کورٹ نے کل گھاٹ تر نمول کے21جولائی کے اجتماع پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے جس حجم کے اجتماع کی اجازت دی تھی، اس سے زیادہ تعداد میں لوگ وہاں جمع ہوئے تھے۔ اس معاملے پر ہائی کورٹ کے جسٹس سَو¿گت بھٹاچاریہ کی بنچ میں جمعہ کو ریاستی حکومت نے رپورٹ پیش کی۔ اس میں کہا گیا کہ کل گھاٹ تری نول کے اجتماع کی وجہ سے سڑکیں بند ہو گئی تھیں اور آمد و رفت میں بھی مشکلات پیش آئیں۔ اس کے بعد جسٹس نے اجتماع پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کل گھاٹ کیمپ کو تنبیہ کی گئی ہے۔
پولیس نے تر نمول کو21جولائی کے اجتماع کی اجازت نہیں دی تھی، اس لیے انہوں نے ہائی کورٹ کا رخ کیا۔ عدالت نے مشروط طور پر برلا تارا منڈل کے سامنے ایک طرف کی سڑک پر ان کے پروگرام کی اجازت دی۔ کہا گیا کہ دوپہر12 بجے سے ساڑھے تین بجے تک اجتماع ہو سکتا ہے۔ قیادت کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ ڈھائی ہزار سے زیادہ افراد کا اجتماع نہ ہو۔ پہلے تین ہزار حامیوں کی اجازت دی گئی تھی، لیکن بعد میں ریاست کے اعتراض پر عدالت نے اسے کم کر کے ڈھائی ہزار کر دیا۔ اس کے مطابق مقررہ دن پروگرام ہوا۔
الزام ہے کہ جتنی اجازت دی گئی تھی، اس سے کہیں زیادہ لوگوں کو کل گھاٹ کیمپ کے اجتماع میں جمع کیا گیا، جس کی وجہ سے ٹریفک کنٹرول میں پولیس کو دشواری ہوئی۔ ریاست نے رپورٹ میں بتایا کہ ترنمول کے اجتماع کے پیش نظر کافی پولیس تعینات کی گئی تھی، لیکن انہوں نے ہدایات پر عمل نہیں کیا۔ تعداد مقرر ہونے کے باوجود اس کی پرواہ نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں کیتھیڈرل روڈ کے دونوں اطراف جام ہو گئے۔ عدالت نے ایک طرف کی سڑک کھلی رکھنے کو کہا تھا، مگر تری نول کے اجتماع کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔ ریاست کی رپورٹ دیکھ کر جسٹس بھٹاچاریہ نے عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کل گھاٹ ترنمول تنبیہ کرتے ہوئے کہا: ”آئندہ عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
Back to top button
Translate »