
ہوڑہ کے گنجان آباد علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے؟ پولیس تشویش میں مبتلا
ہوڑہ کے گنجان آباد علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے؟ پولیس تشویش میں مبتلا

پیر کے روز ہوڑہ سٹی پولیس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ کچھ دن پہلے مرکزی تحقیقی ادارے (مرکزی ایجنسی) کی طرف سے دہشت گردانہ سرگرمیوں کی اطلاع ملنے کے بعد ہی شمالی ہوڑہ کے رہائشی اور ریاست کے بلدیاتی و شہری ترقی کے وزیر مملکت امیش رائے کو خبردار (الرٹ) کیا گیا تھا۔
دہشت گرد تنظیمی نیٹ ورک کی طرف سے ریاستی وزیر امیش رائے کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور دھمکیوں کی اطلاعات کے بعد ان کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ ان کے گھر اور آمد و رفت کے راستوں پر اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔وزیر مملکت امیش رائے نے میڈیا کو بتایا کہ کچھ دن پہلے انہیں فون کر کے ۵ کروڑ روپے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور ڈرانے کی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہیں ریاستی پولیس اور مرکزی ایجنسیوں پر پورا اعتماد ہے اور بنگال میں دہشت گردوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ہوڑہ کے گھنے اور گنجان آبادی والے علاقوں (جیسے ٹکیا پاڑہ، لشو باغین وغیرہ) میں کرائے داروں کا آ نا جانا اور شناخت چھپانا آسان ہوتا ہے۔ پولیس کو خدشہ ہے کہ ان علاقوں کو دہشت گرد عناصر روپوش ہونے یا خفیہ ڈیرے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
پولیس نے ان علاقوں میں بغیر تصدیق کرائے پر مکان دینے کے حوالے سے چوکسی بڑھا دی ہے۔مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے 1200سے زائد نئے CCTV کیمرے لگانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ایس ٹی ایف (STF) اور دیگر خفیہ ایجنسیاں مشترکہ طور پر اس نیٹ ورک کا سوراغ لگانے میں مصروف ہیں۔


