
نیپال سرحد کے قریب سیکوریٹی سخت کر دی گئی
نیپال سرحد کے قریب سیکوریٹی سخت کر دی گئی
نیپال میں ایک بار پھر کشیدگی شروع ہو گئی ہے۔ ہندو ریاست کے دوبارہ قیام کا مطالبہ بھی تیز ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں یہ یقینی بنانے کے لیے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے کہ درانداز نیپال سے بھارت میں داخل ہونے کی کوشش نہ کر سکیں۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق نیپال میں بدامنی کا فائدہ اٹھا کر دہشت گرد بھارت میں چھپ سکتے ہیں۔ اس خطرے کے پیش نظر دونوں ممالک کے درمیان بغیر درست شناختی دستاویزات کے کسی کو بھی آنے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ صرف یہی نہیں، سرحدی علاقوں میں بھی فورسز کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔
26 جولائی کی رات دونوں گروہوں کے درمیان شروع ہونے والی بدامنی نیپال میں رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ اس دوران مذہبی تنظیمیں زیادہ سرگرم ہو گئی ہیں۔ مختلف جگہوں پر آتش زنی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ مذہبی تنظیموں نے حکومت کو 15 نکاتی مطالبات کا ایک خط جمع کرا کر نیپال کو دوبارہ ہندو ریاست قرار دینے کے لیے پارلیمنٹ میں قرارداد لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سونساری ضلع کے دیوان گنج میں پیش آنے والے تشدد کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاری، تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ، اور جنہوں نے فائرنگ کا حکم دیا ان کی شناخت کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی غفلت اور سیکیورٹی نظام کی ناکامی کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت اقدامات کی درخواست کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تصادم میں ہلاک ہونے والوں کو شہید کا درجہ دینے، ان کے خاندان کے لیے مناسب معاوضہ اور زخمیوں کے مفت علاج کا بھی مطالبہ ہے۔ یہ سب ٹھیک ہے۔ اس کے بعد روہنگیا، بنگلہ دیشی اور پاکستانی دراندازوں کی شناخت کر کے انہیں ملک سے نکالنے کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا ہے، جس سے شاہ کی حکومت کافی دباو¿ میں آ گئی ہے۔


