
پنچایت میں کوئی ٹیکس نہیں بڑھے گا، دلیپ کا واضح پیغام
پنچایت میں کوئی ٹیکس نہیں بڑھے گا، دلیپ کا واضح پیغام
ریاست میں تبدیلی کے بعد ہی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں کہ پنچایت علاقوں میں عوام پر ٹیکس کا بوجھ بڑھے گا! فی خاندان 1200 ٹکے دیے جائیں گے۔ ایسی ہی افواہیں پھیلی تھیں۔ چند دن قبل اس بارے میں نبانہ کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ ایسی کوئی ہدایت نامہ جاری نہیں کیا گیا۔ اب اسی معاملے پر ریاستی پنچایت وزیر دلیپ گھوش نے بڑا پیغام دیا ہے۔ آج انہوں نے واضح کیا کہ پنچایت میں کوئی ٹیکس نہیں بڑھایا جائے گا۔ پنچایتوں کو اپنے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے محصول بڑھا کر مالی خود انحصاری اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ آج، جمعہ کو کرشنا نگر کے رابندر بھون میں پنچایت و دیہی ترقی محکمہ کے آو¿ٹ کم ریویو اجلاس میں وزیر نے شرکت کی۔
وزیر نے کہا: "پنچایتوں کو اپنے ذرائع جیسے تالاب، بازار، ہاٹ کے شیڈ، ندی کے گھاٹ اور پنچایت بھون کے ہال کے کرایے سے آمدنی بڑھا کر اپنی مالی بنیاد مزید مضبوط کرنی ہوگی۔ اس سے عام لوگوں پر ٹیکس کا کوئی نیا بوجھ نہیں پڑے گا۔ اسی کے ساتھ ترقیاتی کاموں کے لیے پنچایت کا اپنا فنڈ بھی بڑھے گا۔” آواس یوجنا میں بدعنوانی کے الزامات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں بہت سے نااہل افراد کی فہرست میں شمولیت ہوئی تھی، ان بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی بھی کی گئی ہے۔ تقریباً ایک ہزار نااہل افراد نے سرکاری رقم واپس کی ہے۔ تقریباً ساڑھے 12 ہزار نااہل افراد کے نام فہرست سے خارج کرنے کا عمل جاری ہے۔ دلیپ کا دعویٰ ہے کہ مستقبل میں صرف مستحق اور اہل صارفین ہی سرکاری رہائش کی سہولت حاصل کریں گے۔
سرحدی علاقوں کی ترقی کے بارے میں وزیر نے کہا: "وزیر اعظم نریندر مودی کے تصور کے مطابق سرحد کا آخری گاو¿ں ملک کا آخری گاو¿ں نہیں ہے، بلکہ یہ ملک کا پہلا گاو¿ں ہے۔ اسی مقصد کے تحت وائبرنٹ ولیج پروجیکٹ کے ذریعے سرحدی گاو¿ں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سلامتی کو مضبوط کرنے اور خود انحصاری پیدا کرنے کا کام جاری ہے۔” نادیہ سمیت متعدد سرحدی اضلاع میں یہ پروجیکٹ نافذ کیا جا رہا ہے۔ دراندازی روکنے کے ساتھ ساتھ علاقے کے باشندوں کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جائے گا، یہ بات بھی دلیپ نے بتائی۔


