صبح نرمل، رات کو گرفتار سنجیو، ‘اگر 5 سال پہلے ایسا وزیر اعلیٰ ہوتا…’، شوبھندو کو سلام پیش کرتی ہوئی ابھیا کی والدہ

صبح نرمل، رات کو گرفتار سنجیو، 'اگر 5 سال پہلے ایسا وزیر اعلیٰ ہوتا...'، شوبھندو کو سلام پیش کرتی ہوئی ابھیا کی والدہ

وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ ابھیا کے والد کی نئی شکایت درج کرانے کے دو دن کے اندر جمعرات کی صبح اوڈیشہ سے سابق ایم ایل اے نرمل گھوش کو گرفتار کیا گیا۔ رات ہی پولیس کے جال میں ابھیا کے ‘کاکو’ یعنی سابق کونسلر سنجیو مکھرجی آ گئے۔ پولیس کی کارروائی پر ابھیا کی والدہ بہت خوش ہیں۔ سوشل میڈیا پر وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے لکھا، ‘اگر 5 سال پہلے ایسا وزیر اعلیٰ ہوتا تو کوئی میری بیٹی کو نہ چھین سکتا تھا۔’ گزشتہ 9 اگست کو ابھیا کی یادگاری تقریب میں وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے کہا تھا، "براہ کرم نیا مقدمہ درج کریں۔ فوری کارروائی کریں۔ جو کرنا ہے میں کروں گا۔ میں پرعزم ہوں۔” 10 اگست کو ابھیا کے والد نے تحریری شکایت درج کرائی۔ اس کے فوراً بعد 13 تاریخ کی صبح نرمل گھوش کو اوڈیشہ سے گرفتار کر لیا گیا۔ لدھیانہ سے واپس آتے ہی رات کو کھڑدہ تھانے کی پولیس نے سابق کونسلر سنجیو کو گرفتار کر لیا۔ ابھیا کے گھر کے بالکل قریب ہی سنجیو کا گھر ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے وہ لاپتہ تھے۔ ذرائع کے مطابق، گرفتاری یقینی جانتے ہوئے سنجیو نے خود پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔
اس کے بعد ابھیا کی والدہ نے وزیر اعلیٰ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ لکھی۔ انہوں نے لکھا، ‘سابق اور موجودہ وزیر اعلیٰ میں فرق واضح ہے۔ قابل احترام وزیر اعلیٰ نے آئینی اصولوں کے تحت 9 اگست کو ٹرسٹ کے اسٹیج پر جو وعدہ کیا تھا، اس کے مطابق انتظامیہ نے کام شروع کر دیا جس کی وجہ سے آج دو مجرم گرفتار ہوئے ہیں۔ مزید ہوں گے۔ بنگال کی تمام ماو¿ں اور بیٹیوں کی حفاظت یقینی ہے۔ کیونکہ موجودہ وزیر اعلیٰ سب کے ذمہ دار بھائی اور دادا ہیں۔’ اسی پوسٹ میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے لکھا، ‘اگر 5 سال پہلے ایسا وزیر اعلیٰ اور ایسا وزیر صحت ہوتا تو کوئی میری بیٹی کو مجھ سے نہ چھین سکتا تھا۔’
انہوں نے این آر ایس کی نرس کی موت پر بھی بات کی۔ سوشل میڈیا پر لکھا، ‘این آر ایس میں نرس کی المناک موت کی صحیح تحقیقات ہونی چاہئیں۔ خاندان سے تعزیت کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ تحقیقات میں جو مجرم نکلیں انہیں سخت سزا ملنی چاہیے۔ سزا ہی جرائم کو روکنے کا واحد راستہ ہے، اتنی سخت سزا ہونی چاہیے کہ مجرم ایسے وحشیانہ جرم کرنے سے ڈریں۔’

Back to top button
Translate »