
موسمِ برسات میں بھی بنگالیوں کی پلیٹ سے ہلسا مچھلی ‘غائب پدمائی
موسمِ برسات میں بھی بنگالیوں کی پلیٹ سے ہلسا مچھلی 'غائب پدمائی

گزشتہ سال ٹھیک پوجا سے پہلے 500 میٹرک ٹن پدما ندی کی ہلسا مچھلی بنگال کو ملی تھی۔ تریپورہ کو بھی کچھ ملی تھی۔ لیکن اس بار؟ ابھی تک بنگلہ دیش کی طرف سےہلسا کی کوئی خبر نہیں ہے۔ وہاں کی انتشار انگیز سیاسی صورتحال کے بعد جب نئی حکومت آئی ہے، تب بھی یہ کہنا ممکن نہیں کہ مغربی بنگال والوں کی پلیٹ میں پدمائی ہلساضرور پڑے گی۔ بلکہ اس سلسلے میں کافی الجھن پیدا ہو گئی ہے۔ اس الجھن کو دور کرنے کے لیے یہاں کے درآمد کنندگان کا ایک وفد ڈھاکا جا رہا ہے۔ وہ وہاں بھارتی ہائی کمشنر دینیش دویدی سے ملاقات کریں گے اور پھر تجارتی سیکرٹری کے ساتھ نشست کریں گے۔
اسی نشست میں درخواست کی جائے گی کہ اس پار بنگال کی پیاس بجھانے کے لیے وہ پار بنگال پدما ہلسا بھیجے، جس کے لیے وہ چاتک کی طرح ترس رہے ہیں۔ درآمد کنندگان کی تنظیم کے سربراہ اتل چندر داس نے کہا، "مجھے امید ہے کہ نشست نتیجہ خیز ہوگی۔” گزشتہ بار بنگلہ دیش حکومت نے وہاں کی 37 کمپنیوں کو 5 اکتوبر تک 1200 ٹن ہلسا برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔ یہ پوجا کے وقت تھا۔ تیستا کے پانی کی تقسیم پر پیچیدگیوں اور سفارتی کشیدگی کی وجہ سے 2012 سے بھارت کو ہلسا برآمد کرنا بند کر دیا تھا بنگلہ دیش نے۔ سرکاری طور پر وہاں کی حکومت نے یہ واضح کر دیا تھا۔ پھر 2019 میں دوبارہ ہلسا آئی، لیکن وہ دوستی کی علامت کے طور پر درگا پوجا کے موقع پر دی گئی۔ بنگاو¿ں کے پیٹرا پول راستے سے ہی ہلسا اس پار آتی ہے۔ اس بار بھی وہی کوشش جاری ہے۔


