کوڑیوں کے بھاو¿ بکنے والے آلوو¿ں کے سڑنے کے خدشے نے کسانوں کو پریشان کر دیا
کوڑیوں کے بھاو¿ بکنے والے آلوو¿ں کے سڑنے کے خدشے نے کسانوں کو پریشان کر دیا

دھوپ گڑی: محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے بعد سے ہی جس خطرے کے بادل منڈلا رہے تھے، اب وہی سچ ثابت ہو رہے ہیں۔ ایک طرف مارکیٹ میں مندی اور دوسری طرف قدرت کا قہر، ان دوہری مشکلات نے جلپائی گڑی کے دھوپ گڑی علاقے کے آلو کے کسانوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ جمعرات کے بعد جمعہ کو ہونے والی مسلسل ڑالہ باری اور موسلا دھار بارش کے باعث ایکڑ کے ایکڑ آلو کے کھیت اب پانی کے نیچے ہیں۔ فصل کے کھیتوں میں ہی ضائع ہونے کے خدشے نے ہزاروں کسانوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
دھوپ گڑی بلاک کے وسیع علاقوں میں آلو کے کھیتوں میں اس وقت گھٹنوں تک پانی جمع ہے۔ کسانوں نے نہ صرف آلو کی کھدائی شروع کر دی تھی بلکہ کولڈ اسٹوریج میں بھیجنے کے لیے آلوو¿ں کو بوریوں میں بھر کر کھیتوں میں ہی ڈھیر لگا رکھا تھا۔ وہ تمام آلو اب بارش میں بھیگ کر خراب ہو رہے ہیں۔ کسانوں کا شکوہ ہے کہ اس سال آلو کی کاشت کے اخراجات گزشتہ سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ جہاں ایک گاڑی آلو کی پیداوار پر تقریباً 80 سے 90 ہزار روپے خرچ ہوئے ہیں، وہیں موجودہ مارکیٹ میں اسے فروخت کرنے پر صرف 40 ہزار روپے کے قریب مل رہے ہیں، اور بعض اوقات وہ بھی نہیں ملتے۔ یعنی کسانوں کو لاگت کی آدھی قیمت بھی نہیں مل رہی۔
کسان اس بھاری مالی نقصان کو پورا کرنے کے خیال سے ہی پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت آلو خریدنے کا دعویٰ تو کر رہی ہے لیکن اس کی بھی ایک حد مقرر ہے، اور جو قیمت دی جا رہی ہے اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہونے والا۔ کسانوں کو ڈر ہے کہ اگر کھیتوں میں دیر تک پانی جمع رہا تو آلو تیزی سے سڑنے لگیں گے۔ اگر دھوپ نہ نکلی اور پانی نہ اترا، تو باقی ماندہ آلوو¿ں کو زمین سے نکالنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔


