سنیچر سے شروع ہورہی ہے مردم شماری

سنیچر سے شروع ہورہی ہے مردم شماری

اسمبلی انتخابات میں ترنمول سے اقتدار کا سلسلہ ختم ہوتے ہی میونسپل کارپوریشنوں میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ کولکاتا سمیت یکے بعد دیگرے پور بورڈ تاش کے پتّوں کی طرح گر گئے، جس کا براہ راست اثر میونسپل کارپوریشن کی محصول وصولی پر پڑا۔ کارپوریشن ذرائع کے مطابق، موجودہ مالی سال کے پہلے تین مہینوں میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی میں محض ڈھائی فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ مالی سال میں اسی عرصے کے دوران یہ شرح 12 فیصد سے زیادہ تھی۔ جس کا اثر کارپوریشن کے خزانے پر پڑنا شروع ہو گیا ہے۔
گزشتہ مئی میں ریاست میں سیاسی تبدیلی کے بعد کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے میئر فیرہاد حکیم نے استعفیٰ دے دیا۔ 8 جون کو کولکاتا میونسپل کارپوریشن کی منتخب پور بورڈ کو تحلیل کر دیا گیا۔ اسی وقت سے کارپوریشن کے انتظامی نظام میں وسیع تبدیلیاں آئیں۔ کارپوریشن ذرائع کے مطابق، جون کے دوسرے ہفتے سے کارپوریشن کے تقریباً تمام محکموں — سوشل ویلفیئر، صحت و پانی، سول انجینئرنگ، اور ‘اسسمنٹ’ محکمے — کے عملے کو انن پورنا یوجنا کے کاموں میں لگا دیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے شہری خدمات کئی جگہوں پر متاثر ہو رہی ہیں۔ ایک طرف سڑک، پانی اور تعمیرات سے متعلق کام رکے ہوئے ہیں، تو وہیں برسات کے موسم میں ڈینگو سے بچاو¿ کی آگاہی مہم بھی متاثر ہو رہی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ انتخابات کے بعد ہی پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کی شرح میں کمی آئی ہے، جیسا کہ کارپوریشن ذرائع نے بتایا۔ کارپوریشن افسران میں سے کچھ کا دعویٰ ہے کہ بقایا ٹیکس دہندگان کے گھروں یا دفاتر میں جا کر براہِ راست معائنہ کرنے اور ٹیکس وصولی کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے عملے کے پاس وقت نہیں ہے۔ جس کے نتیجے میں محصول وصولی کے ساتھ ساتھ روزمرہ کی شہری خدمات کو بھی شدید دھچکا لگ رہا ہے۔

Check Also
Close
Back to top button
Translate »