
مساجد سے مائک کھولنے کے خلاف دائر عوامی مفاد کے مقدمے خارج
مساجد سے مائک کھولنے کے خلاف دائر عوامی مفاد کے مقدمے خارج
ریاست کی مساجد سے مائک کھولنے کے خلاف دائر عوامی مفاد کے مقدمے کو کلکتہ ہائی کورٹ نے خارج کر دیا۔ منگل کو قائم مقام چیف جسٹس تپوبرتا چکرورتی اور جسٹس اتروپ بندیوپادھیائے کی ڈویڑن بنچ نے مقدمہ خارج کر دیا۔
ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کی بنچ نے کہا کہ پولیس کے زبانی حکم پر کوئی حکم نہیں دے گا عدالت۔ عدالت کا مشاہدہ، اخباروں کی رپورٹوں پر انحصار کرتے ہوئے مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، جن چار ہزار مساجد سے مائک کھولنے کی بات کہی گئی، ان میں سے اکثر اس مقدمے میں شامل نہیں ہوئیں، ہائی کورٹ نے بتایا۔ اس لیے ان کا موقف بھی معلوم نہیں ہو سکا۔ اس دلیل پر قائم مقام چیف جسٹس کی بنچ نے مقدمہ خارج کر دیا۔
مذہبی مقامات سے پولیس کی طرف سے کوئی قانونی نوٹس دیے بغیر زبردستی لاو¿ڈ اسپیکر یا مائک کھولنے کا الزام تھا۔ اس واقعے کے خلاف احتجاج اور انتظامی اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں ایک عوادی مقدمہ دائر کیا تھا وکیل دانش فاروقی نے۔ ان کے وکیل کی حیثیت سے عدالت میں دلائل دیئے وکیل کلیان بندیوپادھیائے نے۔
حال ہی میں وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے بتایا کہ ریاست بھر میں پولیس کی خصوصی مہم میں مختلف مذہبی مقامات سے پانچ ہزار سے زائد لاو¿ڈ اسپیکر کھولے گئے ہیں۔ کسی خاص مذہبی گروہ کے مذہبی مقامات سے ہی لاو¿ڈ اسپیکر کھولنے کے لیے پولیس کی کارروائی ہو رہی ہے، اس الزام کو انہوں نے مسترد کر دیا۔ اعداد و شمار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ پانچ ہزار 299 لاو¿ڈ اسپیکر مختلف مذہبی مقامات سے کھولے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”ان میں مساجد سے 4 ہزار 203 اور مندروں سے ایک ہزار 96 لاو¿ڈ اسپیکر کھولے گئے ہیں۔”
شور کے قوانین سے متعلق ہائی کورٹ کے 2020 کے فیصلے کے مطابق ہی ریاستی حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے، وزیر اعلیٰ نے یہ بھی بتایا۔ شوبھیندو نے کہا، ”مذہبی مقامات کے احاطے کے اندر اگر آواز محدود رہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔” حکومت نے کوئی نیا اصول نہیں لایا، بلکہ سابقہ حکومت کے دور میں دیے گئے ہائی کورٹ کے فیصلے کو قانونی طور پر نافذ کر رہی ہے، وزیر اعلیٰ نے تبصرہ کیا۔


