
ٹیوٹر کے خلاف تیسری جماعت کی طالبہ کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام
ٹیوٹر کے خلاف تیسری جماعت کی طالبہ کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام
تیسری جماعت کی ایک نابالغہ کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام 71سالہ ٹیوٹر کے خلاف لگا ہے۔ یہ واقعہ جنوبی24پرگنہ کے باسنتی کے جھڑکھالی علاقے میں پیش آیا۔ نابالغہ کے خاندان کی شکایت کی بنیاد پر ملزم ٹیوٹر کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ متاثرہ کے خاندان کا الزام ہے کہ اس معاملے کو رفع دفع کرنے کے لیے ان پر دباو¿ ڈالا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، ملزم ٹیوٹر کا نام س±بھاش چندر مستری ہے۔ وہ اسی علاقے کا رہائشی ہے۔ وہ طویل عرصے سے علاقے میں ٹیوٹرنگ کرتا ہے۔ اتوار کی دوپہر کو وہ علاقے کے ایک گھر میں تیسری جماعت کی ایک طالبہ کو پڑھانے گیا تھا۔ الزام ہے کہ پڑھانے کے بہانے اس نے نابالغہ کو جنسی ہراساں کیا۔ معاملہ معلوم ہوتے ہی متاثرہ کے خاندان کے افراد غصے میں آ گئے۔ ان کا الزام ہے کہ واقعے کے بعد ملزم کے خاندان کی طرف سے معاملہ رفع دفع کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن متاثرہ کا خاندان مثال کے طور پر سزا کے مطالبے پر اڑا ہوا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ پوکسو ایکٹ کے تحت کیننگ ہسپتال میں نابالغہ کا میڈیکل ٹیسٹ کرایا گیا ہے۔ ابتدائی علاج کے بعد وہ فی الحال اپنے گھر میں ہے۔ اس کی حالت مستحکم ہے۔ اس معاملے میں مقدمہ درج ہونے کے بعد ہی ملزم سبھاش چندر مستری کو جھڑکھالی تھانے کی پولیس نے گرفتار کر لیا۔ پیر کو اسے علی پور عدالت میں پیش کیا گیا تو جج نے جیل حراست کا حکم دیا۔ واقعے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ ۷۱ سالہ ٹیوٹر کے اس فعل پر علاقے کے لوگ غصے میں ہیں۔


