پارٹی کی طاقت بڑھانے کے لیے سی پی آئی ایم کی نئی حکمت عملی

پارٹی کی طاقت بڑھانے کے لیے سی پی آئی ایم کی نئی حکمت عملی

اناپورنا یوجنا، ہیلتھ انشورنس، بی جے پی لیڈروں اور وزراء کے ب بیانات کے علاوہ تر نمول دور کی طرح تولابازی اور سنڈیکیٹ راج کے حوالے سے عوام میں غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔ عوام کے اس غصے کا اظہار کرنے اور عوامی ذہنوں میں تنظیم و تحریک بنانے کا پیغام دینے جا رہی ہے سی پی آئی ایم۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، 29اور30 اگست کو کلیانی میں پارٹی سیکرٹریٹ کے توسیعی اجلاس میں ریاستی سیکرٹری محمد سلیم کی پیش کردہ رپورٹ میں ان امور کا ذکر ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ریاستی کمیٹی کے ایک رکن نے بتایا کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے کیمپسوں میں طلباءو طالبات کو منظم کر کے طلبہ ووٹ کے مطالبے کو مضبوط تحریک میں تبدیل کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔
کامریڈوں کی قیادت کا ماننا ہے کہ عام لوگوں کی روزمرہ زندگی سے براہ راست جڑے مختلف مسائل کو سامنے رکھ کر انہیں اپنی تحریک میں شامل کرنا ہوگا۔ اناپورنا یوجنا اور ہیلتھ انشورنس جیسے سماجی تحفظ کے امور، تولابازی اور سنڈیکیٹ پر غصہ، اور حکمراں جماعت کے لیڈروں اور وزراءکے مختلف بیانات — ان تمام چیزوں کو سیاسی طور پر اجاگر کرتے ہوئے کولکتہ سمیت ہر ضلع میں تحریک بنانے پر زور دیا جائے گا۔ صرف پارٹی پروگرام ہی نہیں، بلکہ مقامی لوگوں کو ساتھ لے کر تحریک کا دائرہ بڑھانے کی ہدایت بھی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح طلبہ یونین کے انتخابات کے حوالے سے بھی ریاستی حکومت پر دباو¿ بڑھانے کی حکمت عملی بنائی جا رہی ہے۔ طویل عرصے سے ریاست کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ ووٹ نہ ہونے کو سامنے رکھتے ہوئے کیمپس کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر نکل کر تحریک چلانے کا پیغام دیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق، طلباءکے جمہوری حق اور کیمپس میں منتخب طلبہ تنظیم کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے مسلسل پروگراموں پر زور دیا جائے گا۔

Back to top button
Translate »