وزیر اعلیٰ کا اساتذہ اور اسکول عملے کے بقایا ڈی اے (مہنگائی الاونس) سے متعلق اعلان!

وزیر اعلیٰ کا اساتذہ اور اسکول عملے کے بقایا ڈی اے (مہنگائی الاونس) سے متعلق اعلان!

وزیر اعلیٰ کا اساتذہ اور اسکول عملے کے بقایا ڈی اے (مہنگائی الاونس) سے متعلق اعلان!
تقاریر نہیں، کام سے دکھانا ہی حکومت کا مقصد ہے۔ ریاست کے تعلیمی نظام کی اصلاح کے لیے حکومت پرعزم ہے، یوم اساتذہ کی تقریب میں وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے یہ بات کہی۔ ہفتہ کو اساتذہ کی بھرتی سے لے کر اساتذہ کے بقایا مہنگائی الاو¿نس تک – مختلف موضوعات پر انہوں نے خصوصی اعلانات کیے۔
اساتذہ کے مہنگائی الاو¿نس (ڈی اے) سے متعلق مقدمہ ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اس معاملے میں اندو ملہوترا کمیٹی کی ہدایت کے مطابق ہی ریاستی حکومت قدم اٹھائے گی۔ ایک بار میں دینا ممکن نہ ہو سہی، لیکن مرحلہ وار ڈی اے ادا کیا جائے گا، ہفتہ کو یوم اساتذہ کی تقریب سے وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی شفاف اور ‘پاکیزہ’ اساتذہ بھرتی کے عمل کا وعدہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "تقاریر نہیں، کام سے دکھاو¿ں گا۔”
ریاستی حکومت کے زیر اہتمام اسکولوں کے اساتذہ اور عملے کے بقایا ڈی اے کے بارے میں ریاست کو موقف واضح کرنے کی ہدایت کلکتہ ہائی کورٹ نے دی ہے۔ 11 ستمبر سے پہلے اس سلسلے میں ریاست سے رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ اس تناظر میں وزیر اعلیٰ کا تبصرہ ‘اہم’ ہے۔ نیو ٹاو¿ن کے کنونشن سینٹر میں مغربی بنگال حکومت کے اسکولی تعلیم محکمہ اور اعلیٰ تعلیم محکمہ کے اشتراک سے ‘ودیاساگر اساتذہ اعزاز’ تقریب میں شوبھیندو موجود تھے۔ وہاں سے انہوں نے بتایا کہ اسمبلی انتخابات کے وقت مرکزی حکومت کے ملازمین اور ریاستی حکومت کے ملازمین کے ڈی اے میں 42 فیصد کا فرق تھا۔ ریاستی حکومت پوجا سے قبل پیشگی تنخواہ دے گی، جس میں 20 فیصد ڈی اے شامل ہوگا، تاہم یہ بقایا ڈی اے نہیں ہے۔ اساتذہ کے بقایا مہنگائی الاو¿نس کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا، "طویل عرصے سے ڈی اے کے بقایا جات کے لیے جدوجہد جاری ہے۔ سابقہ حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر کچھ دینے پر مجبور ہوئی تھی۔ ہم اقتدار میں آ کر سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو کافی حصہ دے چکے ہیں۔ اساتذہ کے معاملے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ میں یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے۔” شوبھیندو نے مزید کہا، "ہماری حکومت کی پالیسی بہت واضح ہے۔ ملہوترا کمیٹی جو فیصلہ کرے گی، ہم اسے قبول کریں گے۔ ہم نے حساب لگایا ہے کہ اساتذہ، اساتذہ خواتین، اسکول عملے، ریٹائرڈ اساتذہ اور عملے کو بقایا الاو¿نس دینے کے لیے تقریباً 12 ہزار کروڑ روپے درکار ہوں گے۔ شاید ہم ایک دن میں نہ دے سکیں، لیکن اگر ملہوترا کمیٹی ہمیں ہدایت دے گی تو ہم تعاون بھی کریں گے۔” ڈی اے کی ضرورت کے بارے میں وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا، "یہ معاشی تحفظ کا مسئلہ ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں معاشی تحفظ ہمارے اساتذہ کے لیے بھی ضروری ہے۔

Back to top button
Translate »