ممتا بنرجی ایک تنگ نظر سیاست داں 

ممتا بنرجی ایک تنگ نظر سیاست داں 

جاوید اختر
ترنمول کانگریس کی سپریمو ممتا بنرجی کو ایک تنگ نظر سیاست داں کہا جائے تو میرے خیال میںغلط نہیں ہوگا۔ کیونکہ کانگریس کے ساتھ ان کے تعلقات تو ہمیشہ قائم رہے لیکن کبھی انہوںنے ملک کے مفاد کے لئے کانگریس کا ساتھ نہیں دیا۔ ہمیشہ انہوںنے اپنے مفادات کو ترجیح دی۔جب تک بنگال میں ان کی حکومت تھی وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کو چھوڑ کر کسی کو خاطر میں نہیں لاتی تھیں۔پارلیا منٹ میں انہوں نے ہمیشہ پارلیا منٹ کا بائیکاٹ کر کے بی جے پی کو فائدہ پہنچایا۔مختلف اہم بل پر ہونے والی بحث میں تو ان کی پارٹی کے لوگ حصہ لیتے تھے لیکن ووٹنگ کے وقت غائب ہوجاتے تھے۔
بنگال سے سی پی ایم کو ہٹانے میں ان کا کوئی بڑا رول نہیں تھا ۔ یہاںکے لوگ سی پی ایم کی 34سالہ حکومت کے دوران ہوئی زیادتیوں سے تنگ آچکے تھے۔انہیں بدلاﺅ چاہئے تھااور ان کے ساتھ متبادل کے طور پر ترنمول کانگریس تھی ۔ لوگوں نے ووٹ دے کر اقتدار میں لا دیا ۔ اس وقت بھی اس میں کانگریس کا اہم رول رہا ہے۔ کانگریس نے بھی متعدد سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔لیکن دھیرے دھیرے ممتا بنرجی نے کانگریسی ممبروں کو توڑنا شروع کر دیا اور آخر میں کانگریس کا ایک طرح سے صفایا کر دیا۔
آپ نے دیکھا ہوگا کہ ابھی حال کے دنوں میں ترنمول کانگریس کے کلیان بنرجی اپنے جسم پر ترنمول کانگریس کے باغی لیڈروں کی تصویر لگا کر گھوم رہے تھے۔ اور کہہ رہے تھے یہ لوگ غدار ہیں۔اتفاق سے وہاں کانگریس کی رہنما پرینکا گاندھی موجود تھیں۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ اس پر کلیان بنرجی نے کہا کہ یہ غدار ہیں اوربی جے پی نے انہیں توڑ دیا ہے تو اس پر پرینکا گاندھی نے کہا کہ آپ نے بھی کبھی کانگریس کے لیڈروںکو اسی طرح سے توڑا تھا۔
بہرحال بات ہورہی تھی ممتا بنرجی نے Narrow mindسیاست کی۔اسمبلی چناﺅ میں بری طرح سے شکست کے بعد وہ فوراً دہلی چلی گئیںاور سونیا گاندھی اور راہل گاندھی سے ملاقات کی ۔ ان لوگوںنے انہیں گلے لگایا اور ممتا بنرجی کے کہنے پر انڈیا اتحاد کی میٹنگ بلاکر ممتا بنرجی کا ڈھارس بندھایا۔اس کے بعد ممتا بنرجی بہت دنوں تک خاموش رہیں۔ ادھر نندی گرام اور ریزی نگر میں اسمبلی کا ضمنی چناﺅ ہونے جا رہا ہے۔ اس کے لئے ممتا بنرجی نے اپنا امیدوار اتارا لیکن اس امیدوار نے ممتا بنرجی کو دھوکہ دے دیا۔ اس نے مغربی بنگال کے وزیرا علیٰ شوبھندو ادھیکاری کے ساتھ ملاقات کی اور فوراً اعلا ن کیا کہ وہ چناﺅ نہیںلڑ رہی ہیں۔ ممتا بنرجی نے فوراً اعلان کیا کہ وہ نندی گرام میں کانگریس کے امیدوار کی حمایت کریں گے۔ ان کے اعلان کے فوراً بعد ایک انیس سالہ پرانے معاملے میں پولس نے کانگریس کے امیدوار کو گرفتار کر لیا اور ان پر اتنے ضابطے لگائے گئے ہیں انہیں چناﺅسے قبل ضمانت ملنا ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔
ممتا بنرجی نے اپنے طور پر کانگریس کو یہ پیش کش کی کہ وہ ایک سیٹ پر اپنا امیدوار اتار رہی ہیں اور دوسرے پر کانگریس اپنا امیدوار اتا ر لے لیکن کانگریس نے ترنمول کے اتحاد کی اس پیش کش کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیاکہ کانگریس دونوں سیٹوں پر اپنا امیدوار اتارے گی آ پ ان کی حمایت کریں اس کے بعد آئندہ اتحاد پر بات کی جائے گی ۔ ممتا بنرجی کو کانگریس کی یہ باتیں ناگوار گزریں انہوں نے فوراً اعلان کیا کہ وہ دہلی میں بھی کانگریس کی حمایت نہیں کریں گے۔لیکن بعد میں انہوں نے نندی گرام کے ضمنی چناﺅ کے بارے میںکہا ترنمول کانگریس یہاں کانگریس کے امیدوار کی حمایت کرے گی۔
دوسری طرف ابھی حال میں ڈی ایم کے کی رہنما کنی موزی نے کولکاتا کا دورہ کرکے ممتا بنرجی سے ملاقات کی۔ جہاں دونوں لیڈروں میں بات ہوئی اور یہ طے پایا کہ کانگریس کو چھوڑ کر ایک الگ اتحاد قائم کیا جائے گا اس پر ممتا بنرجی نے بھی اتفاق کیا۔اب سوال یہ ہے کہ ان لوگوںکو کیا یہ پتہ نہیں چل رہا ہے کہ ملک میںکیا ہورہا ہے۔کیا انہیں یہ پتہ نہیں چل پارہا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس اس کوشش میںہے کہ ایک دیش اور ایک پارٹی بنا یا جائے۔کیا انہیں یہ پتہ نہیں چل پارہا ہے کہ 2029کے لوک سبھا چناﺅ کے بعد بی جے پی مزید چناﺅ نہیں کرانا چاہتی اور مودی کو اس وقت تک وزیر اعظم بنائے رکھنا چاہتی ہے جب تک وہ اس کے اہل ہیں۔کیا انہیں پتہ نہیں چل رہا ہے کہ بی جے پی چھوٹی چھوٹی کو کھانا شروع کر دیا ہے۔ کیا انہیں یہ پتہ نہیں چل پارہا ہے کہ بی جے پی نے اپنے اتحادی، ادھو ٹھاکرے کی پارٹی کو ختم کر دیا۔ شرد پوار کی پارٹی کو ختم کر دیا۔ کیا انہیں یہ پتہ نہیں چل پارہا ہے کہ نتیش کمار کو ختم کر دیا کیا انہیں یہ پتہ نہیں چل پارہا ہے کہ اڑیسہ کے نوین پٹنائک کو ختم کر دیا، کیا انہیں یہ پتہ نہیں چل پارہا ہے کہ ممتابنرجی کی خود کی پارٹی ترنمول کانگریس کو ختم کر دیا ۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود یہ لوگ کس طرح کانگریس کو چھوڑ کربی جے پی کو شکست دیں گے۔ ابھی اگر دیکھا جائے تو کانگریس تنہا پارٹی ہے جو سیدھا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بی جے پی کا مقابلہ کر رہے ہی۔ کانگریس کے چھاتروں کی گونج پروگرام سے سہمی ہوئی ہے۔ وہ ڈر گئی ہے ان کا منصوبہ چکنا چور ہوتا ہوا انہیں دیکھائی دینے لگا ہے ۔بی جے پی نے ترنمول کے ہی 20ایم پی کوتوڑ دیا ہے۔ کیا ممتا بنرجی اور کنی موزی کو یہ پتہ نہیں چل پارہا ہے کہ ملک کے جو حالات ہیں اس میں تھرڈ فرنٹ کچھ نہیں کر پائے گی۔
ان لوگوں کو اپنے ذاتی مفادات سے اٹھ کر ملک کے مفاد میں کام کر نا ہوگا تب ہی ملک بچے گا اور ان کی پارٹی بچے گی۔ورنہ ایک وقت ایسا آئے گا جب ان کا وجود ہی مٹ جائے گا۔ ویسے بھی مٹ چکا ہے لیکن امید باقی ہے۔
Back to top button
Translate »