آنکھوں میں آنسو لیے ہمایوں نے کہا، ”ریجن نگر میں بی جے پی جیتے گی“

آنکھوں میں آنسو لیے ہمایوں نے کہا، ”ریجن نگر میں بی جے پی جیتے گی“

ووٹنگ ختم ہو چکی ہے اور اب نتائج کا انتظار ہے۔ آئندہ 9 اکتوبر کو ریجن نگر ضمنی انتخاب کے نتائج کا اعلان ہوگا۔ اسی دوران عام جنتا وکاس پارٹی کے سربراہ ہمایوں کبیر نے آنکھوں میں آنسو لیے ایک بڑا بیان دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ریجن نگر میں بی جے پی بڑی کامیابی حاصل کرے گی۔ اس سلسلے میں ہمایوں نے پولیس اور انتظامیہ کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ صرف یہی نہیں، نوادہ کے رکن اسمبلی نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ”جب تک شوبھندو ادھیکاری وزیر اعلیٰ رہیں گے، میں اسمبلی نہیں جاو¿ں گا۔ اس کے لیے نوادہ کے لوگوں سے معافی مانگ لوں گا۔“ عام جنتا وکاس پارٹی کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ سیاست سے رضاکارانہ طور پر ریٹائرمنٹ لے لیں گے۔
منگل کے روز ’ہائی پروفائل‘ نندی گرام اور ریجن نگر میں ضمنی انتخابات ہوئے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ہمایوں نے نوادہ اور ریجن نگر دونوں حلقوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ضابطے کے مطابق انہوں نے ریجن نگر کی نشست چھوڑ دی۔ اس نشست پر ہمایوں نے اپنے بیٹے کو امیدوار بنایا۔ لیکن منگل کو ووٹنگ شروع ہوتے ہی حالات کشیدہ ہو گئے۔ الزام ہے کہ ووٹ ڈال کر باہر نکلنے کے بعد ہمایوں نے پولیس کے خلاف کئی مرتبہ نازیبا زبان استعمال کی۔ ان پر ووٹروں کو متاثر کرنے اور اشتعال دلانے کے الزامات بھی عائد ہوئے۔ یہاں تک کہ عام جنتا وکاس پارٹی کے سربراہ نے سب کے سامنے وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری پر انتہائی ناشائستہ زبان میں حملہ کیا۔ اس کے بعد پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔ تقریباً 12 گھنٹے بعد انہیں رہا کیا گیا۔
اس کے بعد آج، بدھ کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہمایوں نے پولیس اور انتظامیہ کے خلاف شدید غصے کا اظہار کیا۔ ان کے بیان سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ وہ سیاست سے کافی مایوس ہیں۔
ہمایوں نے کہا، ”جس جمہوری نظام میں بغیر کسی مخصوص وجہ کے ایک پولیس سب انسپکٹر کسی رکن اسمبلی کو زبردستی اٹھا کر 12 گھنٹے تک حراست میں رکھ سکتا ہے، مجھے اس جمہوریت سے نفرت ہے اور میں ایسے وزیرِ پولیس سے بھی دور رہنا چاہتا ہوں۔“
وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا، ”جب شوبھندو ادھیکاری وزیر اعلیٰ اور وزیرِ پولیس تھے، اس دوران گزشتہ دو ماہ سے ان کے ماتحت پولیس نے جس طرح ریجن نگر کے لوگوں پر ظلم کیا، میں اس کے خلاف احتجاج کرتا ہوں۔ شوبھندو ادھیکاری جیسے وزیرِ پولیس کی مہربانی سے ہمایوں کبیر سیاست نہیں کریں گے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ نوادہ کے لوگوں نے انہیں محبت دے کر رکن اسمبلی بنایا ہے، اس لیے وہ عوام کی خدمت جاری رکھیں گے، لیکن اسمبلی نہیں جائیں گے۔ وہ اقلیتی امور، ہاو¿س کمیٹی، بزنس ایڈوائزری کمیٹی، آل پارٹی میٹنگ یا اسپیکر کی جانب سے بلائی جانے والی کسی بھی میٹنگ میں شرکت نہیں کریں گے۔ ان کے لیے مختص 88 نمبر کی نشست خالی رہے گی۔
ہمایوں نے الزام لگایا، ”ایک سیاسی جماعت کا چیئرمین اپنے ہی پارٹی دفتر میں محفوظ نہیں ہے۔ وہاں سے گردن پکڑ کر مجھے باہر نکالا گیا اور پولیس نے کھلے عام ووٹ لوٹ لیے۔ اسی لیے میرا دل اس جمہوریت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔“
آخر میں انہوں نے کہا، ”آئندہ نوادہ کے لوگوں کی رائے لوں گا۔ اگر وہ اجازت دیں تو میں رکن اسمبلی کا عہدہ بھی چھوڑ سکتا ہوں۔ میں فعال سیاست بھی چھوڑ سکتا ہوں۔“

Back to top button
Translate »