درگا پوجا پاس بدعنوانی معاملے میں ایک بار پھر ای ڈی دفتر پہنچے اندرنیل سین

درگا پوجا پاس بدعنوانی معاملے میں ایک بار پھر ای ڈی دفتر پہنچے اندرنیل سین

یونیسکو کی جانب سے ہیریٹیج کا درجہ حاصل درگا پوجا کے پاسوں میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے معاملے میں سابق وزیر اندرنیل سین ایک بار پھر مرکزی تفتیشی ایجنسی کے سوالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ 30 ستمبر کے بعد آج، 7 اکتوبر کو وہ بینک لین دین سے متعلق دستاویزات لے کر تقریباً ساڑھے 11 بجے سالٹ لیک واقع ای ڈی کے دفتر پہنچے۔
معلوم ہوا ہے کہ آج سابق وزیر کو تمام بینک لین دین کے دستاویزات ساتھ لانے کے لیے کہا گیا تھا۔ اسی کے مطابق وہ ضروری دستاویزات لے کر ای ڈی دفتر پہنچے۔ اس سے قبل 30 ستمبر کو اندرنیل سین سے تقریباً 9 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی تھی۔
یونیسکو کا نام استعمال کرتے ہوئے درگا پوجا کے ’پری ویو شو‘ کے پاسوں میں مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں یہ دوسری مرتبہ ہے جب اندرنیل سین ای ڈی کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔ تقریباً 140 کروڑ روپے کی مبینہ بدعنوانی کی شکایت ملنے کے بعد ای ڈی نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کی تھیں۔ اس سے قبل ای ڈی نے اندرنیل سین کے گھر، دفتر سمیت تقریباً 15 مقامات پر تلاشی بھی لی تھی۔
ای ڈی کا الزام ہے کہ 2022 سے تقریباً تین برس تک پوجا کے پاسوں کے نام پر بڑی رقم وصول کی گئی۔ سرکاری ٹینڈر کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تقریباً 85 کروڑ روپے اندرنیل سین نے اپنے قریبی ساتھیوں کی کمپنیوں کو دلوائے۔ ای ڈی کے مطابق، اندرنیل سین کی ملکیت والی کمپنی ’آکٹو ریکارڈز‘ کے بینک اکاو¿نٹ میں 3.8 کروڑ روپے سے زیادہ نقد رقم جمع ہوئی تھی۔ ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ اسی اکاو¿نٹ سے سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے اکاو¿نٹ میں 30 لاکھ روپے منتقل کیے گئے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس دعوے کے سلسلے میں مرکزی تفتیش کاروں کے ہاتھ کچھ دستاویزات بھی لگی ہیں۔
ای ڈی کا کہنا ہے کہ کاغذی اور الیکٹرانک دستاویزات دکھا کر اندرنیل سین سے مختلف سوالات کیے گئے، لیکن ان کے بیانات میں کئی تضادات پائے گئے۔ پہلی مرتبہ پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے ای ڈی کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔ اسی وجہ سے انہیں دوبارہ بدھ کے روز سی جی او کمپلیکس میں واقع ای ڈی دفتر میں طلب کیا گیا ہے۔
تفتیش کاروں نے گزشتہ 10 برس کے بینک لین دین کی دستاویزات طلب کی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ آج بھی انہی دستاویزات کو سامنے رکھ کر ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔ تاہم ای ڈی دفتر میں داخل ہوتے وقت صحافیوں نے ان سے مختلف سوالات کیے، لیکن سابق وزیر نے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔

Back to top button
Translate »