سی جے پی کے احتجاج کے لیے جی20 جیسی سکیورٹی، 12 ہزار نیم فوجی اہلکاروں کو طیاروں کے ذریعے دہلی پہنچایا گیا

سی جے پی کے احتجاج کے لیے جی20 جیسی سکیورٹی، 12 ہزار نیم فوجی اہلکاروں کو طیاروں کے ذریعے دہلی پہنچایا گیا

مرکز نے 10 اکتوبر کو مبینہ ایس آئی آر بے ضابطگیوں کے خلاف جنتر منتر پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کی جانب سے اعلان کردہ بڑے پیمانے کے احتجاج سے قبل مغربی بنگال اور دیگر حساس علاقوں سے نیم فوجی دستے واپس بلا لیے ہیں۔ ان میں چھتیس گڑھ اور جموں و کشمیر میں ماو¿ نواز مخالف کارروائیوں کے لیے تعینات اہلکار بھی شامل ہیں۔
سکیورٹی ادارے کے ذرائع کے مطابق، گزشتہ دو دنوں سے اپوزیشن کے احتجاج میں اضافے اور سی جے پی و بائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر اعلان کردہ مظاہروں کے پیش نظر دہلی میں سکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے یہ اضافی نفری بلائی جا رہی ہے۔
وزارت داخلہ کے ایک سکیورٹی افسر نے ’دی ٹیلی گراف‘ کو بتایا، ”10 اکتوبر سے دہلی میں جاری رہنے والے احتجاج کے پیش نظر تقریباً 12 ہزار مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکاروں کو مغربی بنگال، جموں و کشمیر اور چھتیس گڑھ سے طیاروں کے ذریعے دہلی لایا جا رہا ہے تاکہ سکیورٹی انتظامات مضبوط کیے جا سکیں۔“
انہوں نے کہا، ”حالیہ عرصے میں دارالحکومت میں سکیورٹی فورسز کی یہ سب سے بڑی تعیناتیوں میں سے ایک ہوگی، کیونکہ ہمیں بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے کی توقع ہے۔ تعیناتی تقریباً 2023 میں ہونے والی جی20 سربراہی کانفرنس کے برابر ہوگی۔“
ستمبر 2023 میں جی20 سربراہی کانفرنس کے دوران دہلی میں تقریباً 50 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے، جن میں 30 ہزار دہلی پولیس اہلکار اور 20 ہزار نیم فوجی جوان شامل تھے۔ مجوزہ احتجاج سے قبل اضافی نفری کی تعیناتی کے منصوبے پر مرکز نے ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، خفیہ اطلاعات سے اشارہ ملا ہے کہ طلبہ یونینوں، اپوزیشن جماعتوں کے حامیوں اور پڑوسی ریاستوں ہریانہ، پنجاب اور اتر پردیش کے کسانوں کے بھی آئندہ احتجاج میں شامل ہونے کی توقع ہے۔ احتیاطی اقدام کے طور پر دہلی کی متعدد سرحدوں پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے تاکہ مظاہرین کو قومی دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔
ایک اور افسر کے مطابق، مئی میں اسمبلی انتخابات ختم ہونے کے بعد مغربی بنگال میں تعینات سی آر پی ایف کی کچھ کمپنیاں بھی طلب کی جا رہی ہیں۔ سی آر پی ایف کی ہر کمپنی میں 100 اہلکار ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ”فی الحال دہلی میں آئی این ڈی آئی اے بلاک کے رہنماو¿ں کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف جاری احتجاج کے دوران تقریباً 12 ہزار نیم فوجی اہلکار تعینات ہیں۔ مزید 11 ہزار سی آر پی ایف اہلکاروں کو اضافی نفری کے طور پر طیاروں کے ذریعے دہلی لایا جا رہا ہے۔“
یہ 12 ہزار نیم فوجی جوان جولائی میں سی جے پی کی پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی تحریک کے بعد سے دہلی میں تعینات ہیں۔ یہ تحریک نیٹ پیپر لیک معاملے پر شروع ہوئی تھی اور بالآخر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے پر ختم ہوئی تھی۔
سی جے پی کے چیف ترجمان سورَو داس نے بدھ کے روز کہا کہ پارٹی نے 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کے بارے میں دہلی پولیس کو باضابطہ طور پر مطلع کر دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ مظاہرہ انتخابات اور ووٹر فہرستوں سے متعلق مسائل پر ملک کے نوجوانوں کی قیادت میں کیا جائے گا۔
داس نے بتایا کہ انہوں نے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کا دورہ کیا اور پولیس کو ایک باضابطہ خط سونپا، جس میں بتایا گیا کہ سی جے پی اور ملک بھر سے نوجوان 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر جمع ہوں گے۔
لٹیئنس دہلی کے آس پاس کے اہم علاقوں، جن میں پارلیمنٹ، الیکشن کمیشن کا دفتر اور مقررہ احتجاجی مقام جنتر منتر شامل ہیں، کو پہلے ہی لوہے کی کئی سطحوں والی بیریکیڈنگ سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔
جنتر منتر اور اس کے آس پاس بڑے پیمانے پر احتجاج کے امکان کے پیش نظر وزارت داخلہ نے سکیورٹی اہلکاروں سے یہ بھی کہا ہے کہ دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے اہلکار ہجوم پر قابو پانے کے لیے پیلیٹ گن جیسے مہلک ہتھیار ساتھ نہ رکھیں۔
ذرائع کے مطابق، سکیورٹی ادارے کے اعلیٰ افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ اہلکار ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی، آنسو گیس اور واٹر کینن جیسے غیر متنازعہ طریقہ? کار ہی استعمال کریں۔
20 جولائی کو سی جے پی کی جانب سے پارلیمنٹ کی طرف نکالے گئے مارچ کے دوران جنتر منتر پر جن زیڈ مظاہرین کے خلاف متنازعہ اور ممکنہ طور پر مہلک پیلیٹ گنوں کے مبینہ استعمال نے بڑے پیمانے پر غم و غصے اور قانونی جانچ پڑتال کو جنم دیا تھا۔
دہلی پولیس نے تمام تھانوں کے اسٹیشن ہاو¿س افسران (ایس ایچ اوز) سے یہ بھی کہا ہے کہ نئی دہلی ضلع میں داخل ہونے والی بسوں پر نظر رکھیں۔ ایس ایچ اوز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں اور پیئنگ گیسٹ رہائش گاہوں کی انتظامیہ سے کہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ طلبہ احتجاج میں حصہ نہ لیںَ۔

Back to top button
Translate »