
الیکشن کمیشن نے بنگال کے دو سیٹوں پر 99فیصد مسلمانوں کے نام خارج کئے تھے
الیکشن کمیشن نے بنگال کے دو سیٹوں پر 99فیصد مسلمانوں کے نام خارج کئے تھے
اگر الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر یہ اپیلیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو ان دونوں حلقوں میں مستقبل کے ہر انتخاب کی صورتِ حال کا تعین ہو سکتا ہے۔
مغربی بنگال کے سرحدی علاقے کے دو اسمبلی حلقے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے ذریعے ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کرنے کے دو الگ طریقے کیسے اپنائے گئے، لیکن دونوں کا نتیجہ ایک جیسا نکل سکتا ہے۔
مرشدآباد کے سمشیر گنج میں عدالتی افسران نے 74,775 ووٹروں کو نااہل قرار دیا، جو ریاست کے کسی بھی دوسرے حلقے کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ مالدہ کے سوجاپور میں ججوں نے اس سے کہیں کم ووٹروں کے نام خارج کیے۔ لیکن یہاں الیکشن کمیشن نے ان 61,066 ووٹروں کے ناموں کی شمولیت کے خلاف اپیلیں دائر کی ہیں جنہیں ججوں نے اہل قرار دیا تھا۔ ریاست کے کسی بھی حلقے میں یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔
سِوک ریسرچ گروپ کی جانب سے جمع اور تصدیق کیے گئے، اور دی وائر کو فراہم کردہ اپیلوں کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں حلقوں میں تقریباً ہر اس ووٹر کا نام مسلمانوں سے عام طور پر وابستہ ہے، جنہیں الیکشن کمیشن اب ووٹر لسٹ سے خارج کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے تقریباً تمام اپیلیں ایک ہی وقت، یعنی 5 اپریل 2026 کو دائر کی گئیں، جو اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹر لسٹ منجمد کیے جانے سے صرف دو دن پہلے کی تاریخ ہے۔
سمشیر گنج میں ججوں نے سماعت کے لیے بھیجے گئے 1,08,400 ووٹروں میں سے 69 فیصد کے نام خارج کر دیے، جبکہ 33,152 ووٹروں کو اہل قرار دیا۔ کمیشن نے ان میں سے 15,195 ووٹروں کے خلاف اپیل دائر کی ہے، جو 47.6 فیصد بنتی ہے۔
سوجاپور میں ججوں نے سماعت کے لیے بھیجے گئے 1,34,521 ووٹروں میں سے صرف 20 فیصد کے نام خارج کیے اور 1,07,690 ووٹروں کو اہل قرار دیا۔ کمیشن نے ان میں سے 61,066 ووٹروں کے خلاف اپیل دائر کی ہے، جو 56.7 فیصد ہے۔ یہ تعداد خود ججوں کی جانب سے خارج کیے گئے ووٹروں سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔
اگر تمام اپیلیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو دونوں حلقوں کی صورتِ حال تقریباً ایک جیسی ہو جائے گی۔ سمشیر گنج میں سماعت کے لیے بھیجے گئے 83 فیصد ووٹروں کے نام خارج ہو جائیں گے، جبکہ سوجاپور میں یہ شرح 65 فیصد ہو گی۔ سوجاپور میں اپیلوں کے نتیجے میں خارج کیے جانے والے ووٹروں کی تعداد تین گنا سے بھی زیادہ ہو جائے گی، یعنی 26,829 سے بڑھ کر 87,895 تک پہنچ جائے گی۔
سوجاپور کا ریکارڈ ان تمام 1,07,690 ووٹروں کا احاطہ کرتا ہے جنہیں ججوں نے اہل قرار دیا تھا۔ سمشیر گنج کے معاملے میں 33,152 میں سے 31,896 ووٹروں کا ریکارڈ موجود ہے، جو تقریباً 96 فیصد ہے۔ اب تک ٹریبونلز سوجاپور کی 89 اور سمشیر گنج کی 16 اپیلوں پر فیصلے کر چکے ہیں۔
کن ووٹروں کے خلاف اپیلیں دائر کی گئیں؟
سمشیر گنج میں کمیشن نے جن 15,195 ووٹروں کے خلاف اپیل دائر کی، ان میں سے 15,177 کے نام واضح طور پر مسلم برادری سے وابستہ ہیں، یعنی 99.9 فیصد۔ سوجاپور میں یہ تعداد 61,066 میں سے 60,823 ہے، یعنی 99.6 فیصد۔ان اعداد و شمار کو احتیاط سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کمیشن نے ججوں کی جانب سے اہل قرار دیے گئے ووٹروں میں سے خاص طور پر مسلمانوں کو منتخب نہیں کیا۔ دونوں حلقوں میں تقریباً ہر اس ووٹر کا نام مسلم برادری سے عام طور پر وابستہ ہے، جسے ججوں نے اہل قرار دیا تھا۔ حالانکہ سمشیر گنج کی آبادی میں اقلیتوں کا حصہ تقریباً 72 فیصد اور سوجاپور میں 75 فیصد ہے۔
یہ عدم توازن اس سے پہلے کے مرحلے میں پیدا ہوا، یعنی جب ووٹروں کے نام جانچ کے عمل میں شامل کیے گئے تھے۔ اپریل میں دی وائر نے پایا تھا کہ سمشیر گنج کے ان پولنگ بوتھوں میں جہاں مسلمانوں کی آبادی نصف یا اس سے زیادہ تھی، اوسطاً ہر بوتھ کے 467 ووٹروں کے نام عدالتی جانچ کے لیے بھیجے گئے، جبکہ دیگر بوتھوں میں یہ تعداد 65 تھی۔ جانچ کے بعد اہل قرار پانے والے ووٹروں میں تقریباً سبھی مسلمان تھے، اور اب جن کے خلاف اپیلیں دائر کی گئی ہیں، ان میں بھی تقریباً سبھی مسلمان ہیں۔
سوجاپور میں جن چند اہل قرار دیے گئے ووٹروں کے نام مسلمانوں سے وابستہ نہیں تھے، ان کے خلاف اپیل دائر کرنے کی شرح زیادہ رہی۔ ان کے معاملے میں یہ شرح 86 فیصد تھی، جبکہ مجموعی شرح 57 فیصد ہے۔ یہ ووٹر ووٹر لسٹ کے نو حصوں میں زیادہ تعداد میں موجود ہیں، جہاں 283 میں سے 225 ایسے ووٹروں کے خلاف اپیلیں دائر کی گئیں، جبکہ ان کی 243 اپیلوں میں سے 219 انہی حصوں سے متعلق ہیں۔ان حصوں میں کمیشن نے تقریباً ہر اہل قرار دیے گئے ووٹر کے خلاف اپیل دائر کی، چاہے اس کا نام کچھ بھی ہو۔ حصہ نمبر 2 میں تمام 13 ووٹروں کے خلاف اپیل دائر کی گئی۔ حصہ نمبر 244 میں 43 میں سے 40 اور حصہ نمبر 250 میں 78 میں سے 68 ووٹروں کے خلاف اپیل دائر کی گئی۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ اپیلیں ایک ایک ووٹر کو الگ سے منتخب کرنے کے بجائے ووٹر لسٹ کے حصوں کے لحاظ سے اجتماعی طور پر دائر کی گئیں۔
ہر زیر التوا اپیل کا ایک شناختی نمبر ہوتا ہے۔ SIR پر کام کرنے والے شہری حقوق کے کارکنوں نے ان نمبروں کے ڈھانچے کو سمجھا ہے، اور دی وائر نے بھی آزادانہ طور پر ان کی تشریح کی تصدیق کی ہے۔ شناختی نمبر میں ایک حرف سے یہ طے ہوتا ہے کہ اپیلوں کا ایک گروپ کس تاریخ اور وقت پر دائر کیا گیا تھا۔ جن اپیلوں پر فیصلہ ہو چکا ہے، ان کے شناختی نمبر اب موجود نہیں ہیں۔ اس لیے یہ تجزیہ سوجاپور کی 60,977 اور سمشیر گنج کی 15,179 زیر التوا اپیلوں پر مبنی ہے۔ان دونوں حلقوں کی مجموعی 76,156 اپیلوں میں سے 72,838، یعنی 96 فیصد، کے ساتھ 5 اپریل 2026 کا ایک ہی وقت درج ہے۔ سوجاپور میں ایسی اپیلوں کی تعداد 59,972 ہے، جو وہاں کی مجموعی اپیلوں کا 98 فیصد ہے۔ سمشیر گنج میں یہ تعداد 12,866 ہے، یعنی 85 فیصد۔


