
دہلی میں خطاب کریں گی ممتا! ’اب مزید خاموش نہ رہیں‘، رام لیلا میدان کے احتجاج میں سبھی کو شرکت کی اپیل
دہلی میں خطاب کریں گی ممتا! ’اب مزید خاموش نہ رہیں‘، رام لیلا میدان کے احتجاج میں سبھی کو شرکت کی اپیل
جمہوریت کے سب سے بڑے حق کو چھیننے کے الزامات کے درمیان اپوزیشن جماعتیں مسلسل احتجاجی پروگرام منعقد کر رہی ہیں۔ آئندہ اتوار، یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کے نمائندے ایک بار پھر احتجاج کریں گے۔ اس پروگرام میں آل انڈیا ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی شرکت متوقع ہے۔ مقررین کی فہرست میں بھی ان کا نام شامل ہے۔ ممتا نے طلبہ، خواتین اور سماج کی ممتاز شخصیات سے اس پروگرام میں شرکت کی اپیل کی ہے۔ جمعرات کو سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا، ”اب مزید خاموش نہ رہیں۔ جب ووٹ دینے کا حق ہی چھینے جانے کے خطرے سے دوچار ہو، تو اس معاملے پر خاموش رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس کے بجائے آئیے، جمہوریت اور آئین کو بچانے کے لیے سب مل کر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑے ہوں۔“
مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں ووٹوں کی مبینہ لوٹ کے الزامات کے تحت اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ مرکز میں برسراقتدار بی جے پی کے حق میں جھکاو¿ رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے یک طرفہ انداز میں انتخابات کرائے اور غیر جانب داری برقرار نہیں رکھی۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ اس معاملے میں گیانیش کمار کا کردار سب سے زیادہ رہا ہے۔ اسی لیے ان کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔
اس معاملے پر اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ پہلے بھی دو مرتبہ احتجاج کر چکا ہے۔ سڑکوں پر اترنے کے بعد راہل گاندھی اور نہا بورا سمیت کئی رہنماو¿ں کو پولیس کی لاٹھیاں بھی کھانی پڑی ہیں۔ لیکن احتجاج ختم نہیں ہوا ہے۔ آئندہ یکم نومبر کو اپوزیشن جماعتیں اسی معاملے پر ایک بار پھر دہلی کے رام لیلا میدان میں احتجاج کریں گی۔ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے بھی اس احتجاج کی حمایت کی ہے۔ امکان ہے کہ وہ بھی اس پروگرام میں حصہ لے گی۔
اتوار کو دہلی میں ہونے والے اس احتجاجی پروگرام میں ممتا بنرجی بھی موجود رہیں گی۔ اس سے پہلے انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے سبھی لوگوں سے شرکت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا، ”یکم نومبر کو ’انڈیا‘ رام لیلا میدان میں احتجاج کرے گا۔ یہ ووٹ چوری کے خلاف لڑائی ہے۔ ہر ہندوستانی کو یہ حق حاصل ہے۔ بنگال اور دیگر ریاستوں میں ووٹ چوری کے معاملے پر عوام جواب چاہتے ہیں، خاموش رہ کر کام نہیں چلے گا۔ میں ہر طالب علم، نوجوان، خاتون اور سماج کی ممتاز شخصیات سے اپیل کرتی ہوں کہ آپ بھی اس پروگرام میں شامل ہوں۔ آئیے، متحد ہو کر جمہوریت اور آئین کو بچائیں۔“


