اسرائیلی انتخابات : ’جیت تو جیت ہے‘: اپوزیشن لیڈر لاپیڈ کا تبصرہ

اسرائیلی انتخابات : ’جیت تو جیت ہے‘: اپوزیشن لیڈر لاپیڈ کا تبصرہ

اسرائیلی انتخابات کے نتائج لائیو: اسرائیل کے وزیر اعظم اور لیکوڈ پارٹی کے رہنما بنجامن نیتن یاہو نے جمعہ کے روز ایک بار پھر ’انتخابی رشوت ستانی‘ کے اپنے الزامات دہرائے۔ انہوں نے اپنے ایکس ہینڈل پر ایک ٹیلی ویڑن رپورٹ شیئر کی۔ لیکوڈ پارٹی الزام لگاتی رہی ہے کہ منگل کو ہونے والے انتخابات میں عرب جماعتوں نے دھاندلی کی ہے۔ پارٹی نے پولیس، شن بیت اور مرکزی انتخابی کمیٹی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔27 اکتوبر کو انتخابات کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے ایک مضبوط، دائیں بازو کی قومی حکومت تشکیل دینے کا عزم ظاہر کیا۔
’ہم نے جرات کے ساتھ ایرانی حکومت پر حملہ کیا اور اسے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ ایران پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہے اور اسرائیل پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے،‘ نیتن یاہو نے کہا۔ ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو نے کہا کہ ’ایران کا خطرہ‘ اب بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا، ”یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ کیونکہ جب تک یہ جنونی حکومت موجود ہے، جس نے اپنے پرچم پر ہماری تباہی کو لکھ رکھا ہے اور جس نے ہماری بربادی کو اپنے وجود کا مقصد قرار دے رکھا ہے، وہ ہمیں دوبارہ ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہمارے اختیار میں ہے، اور اس مقصد کے لیے ہمیں اپنے عظیم دوست صدر ٹرمپ کا تعاون بھی حاصل ہے۔“
 اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے جمعہ کے روز عرب سیاسی رہنماو¿ں اور اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کے بیانات کا ایک مجموعہ شیئر کیا۔ اس کے ذریعے انہوں نے عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت تشکیل دینے کی مخالفت دہراتے ہوئے کہا، ”ان کے ساتھ حکومت بنانا ممنوع ہے۔“
ایکس پر ایک پوسٹ میں نیتن یاہو نے ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں کئی عرب سیاست دانوں اور اراکین پارلیمنٹ کی تقاریر اور بیانات کے اقتباسات شامل تھے۔ ان میں احمد طیبی، ایمان خطیب یاسین، منصور عباس، سامی ابو شہادہ، اوفر کسف، یوسف جبارین اور ایمن عودہ شامل ہیں۔
اسرائیل کے سینٹرلسٹ سیاست دان یائر لاپید نے جمعہ کے روز کہا کہ حالیہ انتخابات میں وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں ملنے کے بعد ان کے لیے حکومت تشکیل دینا مشکل ہے۔
لاپید نے ایکس پر عبرانی زبان میں ایک پوسٹ میں لکھا، ”77.7 فیصد ووٹنگ ہوئی، جو 1999 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ نیتن یاہو کو 53 نشستیں ملیں۔ یہ ایک بڑی ناکامی ہے۔ اس کم تعداد میں بھی 13 نشستیں ایسی جماعتوں کے پاس ہیں جو خود کو صیہونی نہیں مانتی ہیں۔ اس طرح ان کے پاس صرف 40 نشستیں رہ جاتی ہیں۔ ان کے پاس یہی کچھ ہے۔ وہ چاہے جو بھی کریں، حکومت تشکیل دینے کے لیے ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔“
لاپید کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی نے جمعہ کے روز قومی انتخابات کے حتمی نتائج جاری کیے۔ ان نتائج میں 26ویں کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں نشستوں کی تقسیم کی تصدیق کی گئی ہے۔ نومنتخب پارلیمنٹ کی حلف برداری 10 نومبر کو مقرر ہے۔ نیتن یاہو کے حامی اتحاد کو 53 نشستیں ملی ہیں، جو حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت سے کم ہیں۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی قیادت والی لیکوڈ پارٹی 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری، جبکہ یاشار کو 21 نشستیں حاصل ہوئیں۔گھڑی ساز کی مثال دیتے ہوئے لاپید نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ اتحادی حکومت کی تشکیل کے لیے جاری مذاکرات کے دوران خاموشی کو پیش رفت کی کمی نہ سمجھیں۔
انہوں نے کہا، ”یہ گھڑی سازوں کا وقت ہے، گونگ بجانے والوں کا نہیں۔“ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا، ”گھڑی ساز شور نہیں مچاتا۔ وہ میگنیفائنگ گلاس لے کر بیٹھتا ہے، ایک پرزے کو حرکت دیتا ہے، پھر دوسرے کو۔ آخرکار گھڑی کام کرنے لگتی ہے۔ کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے یہ کیسے کیا یا اس میں کتنا وقت لگا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وقت درست ہو۔“ڈیموکریٹس پارٹی کے رہنما یائر گولان نے یہودی قیادت والی اپوزیشن جماعتوں سے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ وہ عرب قیادت والی جماعتوں کے ساتھ مل کر اتحاد تشکیل دیں۔گولان نے ہاریتز اخبار میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا، ”جمہوری اسرائیل میں کوئی بھی شہری مشروط حقوق کا حامل نہیں ہے۔ منگل کے روز سخنین یا رہط میں کسی عرب شہری کا ڈالا ہوا ووٹ بالکل اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنی تل ابیب یا سدروت میں کسی یہودی شہری کے ووٹ کی ہے۔“ حتمی نتائج 4 نومبر کو صدر اسحاق ہرزوگ کے سامنے باضابطہ طور پر پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ اس سے پہلے ممکنہ غلطیوں یا موصول ہونے والے سوالات کی تحقیقات مکمل کی جائیں گی۔ ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق، نومنتخب 26ویں کنیسٹ کی حلف برداری 10 نومبر کو مقرر ہے۔
اسرائیل میں متناسب نمائندگی کا انتخابی نظام رائج ہے۔ اس نظام کے تحت جماعتوں کو 120 رکنی کنیسٹ میں قومی سطح پر حاصل ہونے والے ووٹوں کے تناسب سے نشستیں ملتی ہیں۔ اس نظام کے باعث متعدد جماعتوں کو پارلیمنٹ میں داخل ہونے کا موقع ملتا ہے، جس کی وجہ سے حکومت تشکیل دینے کے لیے مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد قائم کرنا انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔
Back to top button
Translate »