جلیبی بنانے کے لیے سر پر کیپ اور ہاتھوں میں دستانے پہننا لازمی

جلیبی بنانے کے لیے سر پر کیپ اور ہاتھوں میں دستانے پہننا لازمی

تہواروں کے موسم میں مسلسل دو اضلاع میں محکمہ? فوڈ سیفٹی نے دوبارہ چھاپے مارے۔ دکانوں کو نوٹس بھی جاری کیے گئے اور خبردار بھی کیا گیا۔ دن بھر جلیبی تیار کی جاتی ہے اور رات بھر فروخت ہوتی ہے۔ لکشمی پوجا کے موقع پر جھاڑگرام کے بن پور 2 بلاک کے ہاردا گاو¿ں میں جلیبی کی کشش لوگوں کو دور دراز علاقوں سے کھینچ لاتی ہے۔ مقامی ذرائع کے دعوے کے مطابق، یہاں روزانہ اوسطاً چار ٹن جلیبی فروخت ہوتی ہے۔ اتنی بڑی مقدار میں جلیبی تیار کرتے وقت حفظانِ صحت کے اصولوں پر کتنا عمل کیا جا رہا ہے، اس کا جائزہ لینے کے لیے محکمہ? فوڈ سیفٹی نے ہاردا کی مشہور جلیبی کی دکان پر چھاپہ مارا۔
فوڈ سیفٹی افسر سومن داس کی قیادت میں محکمے کے نمائندوں نے دکان پہنچ کر جلیبی بنانے کے طریق? کار، صفائی اور حفظانِ صحت کے اصولوں کا جائزہ لیا۔ تاہم انہیں کوئی بے ضابطگی نظر نہیں آئی۔ صرف جلیبی بناتے وقت سر پر کیپ اور ہاتھوں میں دستانے پہننے کی ہدایت دی گئی۔ ضلع کے فوڈ سیفٹی افسر سومن داس کی قیادت میں اس کارروائی کے دوران جلیبی بنانے میں استعمال ہونے والے اجزا اور تیاری کے طریقے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ افسران کے مطابق، ہاردا کی جلیبی بیسن سے نہیں بنائی جاتی اور اس میں کسی قسم کا رنگ بھی استعمال نہیں کیا جاتا۔ تمام چیزیں درست پائی گئیں۔ تاہم کھانا تیار کرتے وقت صفائی برقرار رکھنے کے لیے کیپ اور دستانے پہننے کی ہدایت دی گئی ہے۔
جلیبی کی فروخت کے اس بڑے انتظام کے پیچھے ہاردا کی لکشمی پوجا کی کئی سال پرانی روایت ہے۔ چاول اور ا±ڑد کی دال کے آٹے سے تیار ہونے والی اس جلیبی کا ذائقہ منفرد ہوتا ہے۔ پوجا کے دوران گاو¿ں کے مندر میں ’ڈاک‘ کے ذریعے صرف ایک دکان کو جلیبی فروخت کرنے کا ٹھیکہ دیا جاتا ہے۔ اس مرتبہ 3 لاکھ 91 ہزار 600 روپے میں یہ ٹھیکہ سنتو ساہا نے حاصل کیا ہے۔ جلیبی کی قیمت 110 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔ پوجا کے موقع پر تقریباً 21 دن تک اس کی فروخت جاری رہتی ہے۔ مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ مجموعی طور پر 200 کوئنٹل سے زیادہ جلیبی فروخت ہوتی ہے۔
پوجا کے دنوں میں جلیبی خریدنے کے لیے لمبی قطاریں لگتی ہیں۔ بھیڑ کے دباو¿ کو سنبھالنے کے لیے اس مرتبہ آن لائن جلیبی بکنگ کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ 9679644997 نمبر پر واٹس ایپ کرکے جلیبی بک کی جا سکتی ہے۔ سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ ہاردا علاقے میں فلیکس لگا کر بھی اس نمبر کی تشہیر کی گئی ہے۔ چھاپے کے بارے میں سنتو ساہا نے کہا کہ افسران آئے تھے اور تمام چیزوں کا جائزہ لے کر گئے ہیں۔ کھانے پینے کی دکانوں کی باقاعدہ نگرانی اچھی بات ہے۔ اس طرح بے پناہ مقبولیت کے ساتھ ساتھ اس مرتبہ لکشمی پوجا میں جلیبی کی تیاری کے دوران صفائی اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل کرنے کے معاملے کو بھی اہمیت دی گئی۔
دوسری جانب، پڑوسی ضلع مشرقی مدناپور کے چیتنیہ پور بازار علاقے میں بھی کھانے کے معیار اور صفائی کا جائزہ لینے کے لیے محکمہ? فوڈ سیفٹی اور سوتاہاٹا تھانے کی پولیس نے مشترکہ مہم چلائی۔ جمعرات کی شام سے چیتنیہ پور سڑک کے دونوں جانب واقع چھوٹے ریسٹورنٹس، ہوٹلوں، کھانے پینے کی دکانوں، مٹھائی کی دکانوں اور مسالہ موری فروخت کرنے والی دکانوں کی تلاشی لی گئی۔ دکانوں میں باسی سبزیاں، سڑا ہوا گوشت، باسی اور خراب مٹھائیاں، دودھ، دہی اور کھانے میں استعمال ہونے والے مختلف رنگ ملے۔ بعض دکانوں میں باسی کھانے کو پلاسٹک میں لپیٹ کر فریج میں رکھا گیا تھا۔ جبکہ کچھ جگہوں پر کٹی ہوئی سبزیاں بے ترتیب انداز میں رکھی ہوئی تھیں، باورچی خانے غیر صاف تھے، کھانے پر مکھیاں بیٹھ رہی تھیں اور کوڑے دان بھی گندے پائے گئے۔
مٹھائی کی دکانوں کے باورچی خانوں میں بھی گندگی اور باسی مٹھائیاں پائی گئیں۔ کھانے پینے کی متعدد اشیا کے نمونے جمع کیے گئے۔ ابتدائی مرحلے میں دکانوں کو خبردار کرتے ہوئے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ انہیں سات دن کے اندر کھانے کے معیار اور صفائی کے حوالے سے ضروری تبدیلیاں کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ محکمہ? فوڈ سیفٹی کی افسر شراونی ساہا نے کہا، ”چیتنیہ پور بازار کے چھوٹے ریسٹورنٹس، کھانے پینے کی دکانوں، ہوٹلوں اور مٹھائی کی دکانوں میں مہم چلائی گئی ہے۔ دکانوں کو سات دن کی مہلت دیتے ہوئے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ اس مدت کے اندر حالات میں تبدیلی نہیں آئی تو مناسب کارروائی کی جائے گی۔ جمع کیے گئے نمونے جانچ کے لیے بھیجے جائیں گے۔“

Back to top button
Translate »