الیکشن کمیشن نے فارم 6 پر اپنا فیصلہ واپس لیا، ایس آئی آر سے متعلق وہ شق ہٹائی جسے ایک الیکشن کمشنر نے ’غیر قانونی‘ قرار دیا تھا

الیکشن کمیشن نے فارم 6 پر اپنا فیصلہ واپس لیا، ایس آئی آر سے متعلق وہ شق ہٹائی جسے ایک الیکشن کمشنر نے ’غیر قانونی‘ قرار دیا تھا

الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) نے اپنے فیصلوں میں ایک اور بڑی تبدیلی کرتے ہوئے آن لائن ووٹر رجسٹریشن فارم، فارم 6 سے اسپیشل انٹینسیو ریویڑن (SIR) سے متعلق اقرار نامے کو ہٹا دیا ہے۔ یہ تبدیلی ان ریاستوں میں بھی کی گئی ہے جہاں ابھی ایس آئی آر کا عمل جاری ہے۔
یہ ان کئی فیصلوں میں تازہ ترین تبدیلی ہے، جن پر دو الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران 14 نوٹوں کے ذریعے اعتراضات اٹھائے تھے۔اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے آن لائن درخواست فارم کے سیکشن J اور K کے درمیان شامل کیا گیا اقرار نامہ اب فارم 6 کا حصہ نہیں رہا ہے۔
اس اقرار نامے میں درخواست دہندگان کو تین میں سے ایک بات کا انتخاب کرنا ہوتا تھا۔ پہلی یہ کہ کیا 2000 کی دہائی کے اوائل میں ہونے والی آخری ایس آئی آر کے دوران ان کا نام ووٹر لسٹ میں موجود تھا؟ دوسری یہ کہ کیا ان کے والدین یا دادا دادی کا نام اس ووٹر لسٹ میں شامل تھا؟ اور تیسری یہ کہ نہ تو ان کا اور نہ ہی ان کے والدین کا نام اس فہرست میں موجود تھا۔ اس سوال کا جواب دیے بغیر درخواست دہندہ آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔
وویک جوشی نے 16 مئی کو اپنے نوٹ میں لکھا تھا کہ فارم میں قانونی ترمیم کیے بغیر اس طرح کی کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ وہیں سکھبیر سنگھ سندھو نے 13 اگست کو اس اقدام کو ”غیر مجاز اور غیر قانونی“ قرار دیا تھا۔ اب اس اقرار نامے کو پورٹل پر ایک الگ فارم کے طور پر دستیاب کرایا گیا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب الیکشن کمیشن نے 26 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں داخل کردہ اپنے جوابی حلف نامے میں بتایا تھا کہ اس کے الیکٹورل رول ڈویڑن نے 21 اکتوبر کو دونوں دستاویزات کو الگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ ایس آئی آر سے متعلق اقرار نامے کو فارم 6 کے اندر اس لیے شامل کیا گیا تھا تاکہ درخواست دہندہ کو ایک ہی او ٹی پی اور ایک ہی ای سائن کے ذریعے درخواست مکمل کرنے کی سہولت مل سکے، بجائے اس کے کہ دو الگ الگ دستاویزات کے لیے دو او ٹی پی اور دو ای سائن کی ضرورت پڑے۔ تاہم اس ”نیک مقصد“ پر غور و خوض اور تجاویز کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
حلف نامے میں مزید کہا گیا ہے، ”الیکٹورل رول ڈویڑن کے 21 اکتوبر 2026 کے فیصلے کے مطابق، جس طرح فارم 6 کی کاغذی درخواست کے ساتھ ایس آئی آر کا اقرار نامہ الگ جمع کیا جاتا ہے، اسی طرح آن لائن درخواست بھی دو حصوں میں ہوگی۔ ایک حصہ قواعد کے مطابق مقررہ فارم 6 ہوگا اور دوسرا ایس آئی آر اقرار نامہ۔“
23 ستمبر کو ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے رپورٹ کیا تھا کہ سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے اس تبدیلی پر اعتراض کیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ فارم 6، رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز 1960 کے تحت مقرر کیا گیا ہے اور اس میں ترمیم کرنے کا اختیار صرف مرکزی حکومت کو ہے۔
وویک جوشی نے 16 مئی کو اپنے نوٹ میں یہ اعتراض درج کیا تھا، جبکہ سکھبیر سنگھ سندھو نے 19 مئی کو ان کے موقف کی تائید کی تھی۔ اس کے باوجود جولائی میں آن لائن فارم میں یہ سوال شامل کر دیا گیا۔ اس اخبار نے پہلی بار 12 جولائی کو اس کی رپورٹ شائع کی تھی۔
13 اگست کو سندھو نے اسے ”غیر مجاز اور غیر قانونی“ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم اس اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ شائع ہونے کے وقت تک یہ اقرار نامہ فارم میں موجود تھا۔
الیکشن کمیشن کا پہلا جواب اسی دن ایک پریس نوٹ کے ذریعے سامنے آیا تھا، جس میں فارم 6 کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ کمیشن نے کہا تھا کہ ”الیکشن کمیشن کے تمام اقدامات قوانین اور کمیشن کی ہدایات کے مطابق ہیں۔“ اس نے دونوں کمشنروں کے نوٹوں کو مسودہ تیار کرنے کے دوران ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے ”انتظامی سوالات یا تجاویز“ قرار دیا تھا۔ ساتھ ہی کہا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے تمام فیصلے مکمل کمیشن کے متفقہ فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔
تین دن بعد، 26 ستمبر کو مکمل الیکشن کمیشن کی میٹنگ ہوئی اور دوسرا پریس نوٹ جاری کیا گیا۔ فارم 6 کے حوالے سے اس میں کہا گیا، ”ایس آئی آر کے لیے فارم 6 کے ساتھ منسلک اقرار نامے کو معزز سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے۔ ایس آئی آر کے علاوہ دیگر ادوار میں قواعد (رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز 1960) کے مطابق مقررہ فارم استعمال کیے جائیں گے۔“
اس کا مطلب یہ تھا کہ آن لائن فارم 6 میں اقرار نامہ صرف ایس آئی آر کی مدت کے دوران موجود رہے گا، جبکہ جہاں ایس آئی آر کا عمل جاری تھا، وہاں اسے برقرار رکھا جائے گا، جیسے دہلی اور مہاراشٹر۔
اس فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے ان ریاستوں میں آن لائن فارم 6 سے اقرار نامہ ہٹا دیا گیا جہاں ایس آئی آر مکمل ہو چکا تھا۔ تاہم جن ریاستوں میں یہ عمل جاری تھا، وہاں سیکشن J اور K کے درمیان یہ اقرار نامہ موجود رہا۔
12 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس نے ترمیم شدہ فارم 6 کو نہ تو منظوری دی ہے اور نہ ہی اسے مسترد کیا ہے۔اس کے بعد 21 اکتوبر کو الیکشن کمیشن کے الیکٹورل رول ڈویڑن نے فیصلہ کیا کہ اقرار نامے کو ہر جگہ فارم 6 سے الگ کرکے ایک علیحدہ دستاویز بنایا جائے۔ اب ای سی آئی نیٹ پورٹل پر فارم اسی نئی شکل میں دستیاب ہے۔
تاہم الیکشن کمیشن اپنے حلف نامے میں اب بھی اس موقف پر قائم ہے کہ فارم 6 میں کبھی کوئی ترمیم نہیں کی گئی تھی۔ حلف نامے میں کہا گیا ہے، ”اس دعوے میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ کمیشن نے ایس آئی آر کے احکامات کے ذریعے فارم 6 میں ترمیم کی ہے۔“
لیکن کمیشن نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ فارم 6 اور اقرار نامے کو آئی ٹی پلیٹ فارم پر جس انداز میں دکھایا گیا، اس پر کچھ خدشات پیدا ہوئے تھے۔ حلف نامے کے مطابق، آن لائن نظام میں اقرار نامے کو اس طرح پیش کیا گیا تھا کہ ایسا محسوس ہو سکتا تھا جیسے فارم 6 میں ترمیم کر دی گئی ہو۔ کمیشن نے دوبارہ واضح کیا کہ فارم 6 میں ترمیم کرنے کا اختیار صرف مرکزی حکومت کو ہے۔
الیکشن کمیشن کی اپنی وضاحت کے مطابق، اقرار نامے کو فارم 6 میں شامل کرنے کا مقصد درخواست دہندگان کو ایک اضافی او ٹی پی سے بچانا تھا۔ اگر دونوں دستاویزات الگ ہوتیں تو دو او ٹی پی اور دو ای سائن درکار ہوتے، جبکہ ایک ہی صفحے پر دونوں ہونے کی صورت میں صرف ایک او ٹی پی اور ایک ای سائن سے کام مکمل ہو جاتا تھا۔

Back to top button
Translate »