اچانک بند ہوا ریاستی کانگریس کا انسٹاگرام اکاونٹ! سازش کا الزام لگاتے ہوئے بی جے پی پر کانگریس کا حملہ

اچانک بند ہوا ریاستی کانگریس کا انسٹاگرام اکاونٹ! سازش کا الزام لگاتے ہوئے بی جے پی پر کانگریس کا حملہ

منگل کی صبح سے انسٹاگرام پر مغربی بنگال پردیش کانگریس کا پروفائل نظر نہیں آ رہا ہے۔ کانگریس نے براہِ راست مرکز اور ریاست کی حکمراں جماعت کے بعض لوگوں پر انگلی اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اپوزیشن کی آواز دبانے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے اس کا اکاو¿نٹ بند کر دیا گیا ہے۔

پردیش کانگریس ذرائع کے مطابق، ان کا انسٹاگرام ہینڈل ’INC Bengal Congress‘ گزشتہ کئی دنوں سے مرکزی حکومت کی قیادت کرنے والی نریندر مودی حکومت اور بی جے پی کے خلاف مسلسل سیاسی مہم چلا رہا تھا۔ لیکن منگل کی صبح اچانک معلوم ہوا کہ یہ پیج انسٹاگرام پر تلاش کرنے سے بھی نہیں مل رہا ہے۔

پارٹی کا کہنا ہے کہ جب پارلیمنٹ سے لے کر اسمبلی تک اپوزیشن جماعتیں اپنی آواز بلند کر رہی ہیں، ایسے وقت میں جمہوری دائرے کو محدود کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر بھی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔

اس واقعے پر پردیش کانگریس کے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے چیئرپرسن اشوک بھٹاچاریہ نے سخت احتجاج درج کرایا ہے۔ انہوں نے کہا، ”بی جے پی اور آر ایس ایس کی پالیسیوں اور سرگرمیوں کی مخالفت میں مسلسل پوسٹ کرنے کی وجہ سے ہی مغربی بنگال پردیش کانگریس کے انسٹاگرام ہینڈل کو غیر منصفانہ طریقے سے بلاک یا بند کر دیا گیا ہے۔ ہم اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہیں۔“

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم چلانے والی کمپنی کو استعمال کرکے آمرانہ حکمرانوں کے اشارے پر اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس واقعے کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ تاہم متعلقہ سوشل میڈیا کمپنی کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے کہ آیا یہ کارروائی کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہوئی ہے یا پھر پالیسی کی خلاف ورزی کے باعث اکاو¿نٹ بند کیا گیا ہے۔

دوسری جانب بی جے پی نے کانگریس کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے کانگریس کی اندرونی سیاست کا ایک ڈرامہ قرار دیا ہے۔
ریاستی بی جے پی کے سوشل میڈیا سیل کے سربراہ ا±پمنیو بھٹاچاریہ نے کہا، ”بی جے پی کا سوشل میڈیا سیل کسی کا بھی اکاو¿نٹ بلاک نہیں کروا سکتا۔ یہ اختیار بی جے پی کے پاس نہیں ہے۔ حتیٰ کہ پولیس کے پاس بھی یہ اختیار نہیں ہے۔ یہ کام صرف میٹا انتظامیہ ہی کر سکتی ہے۔ اس لیے بی جے پی پر الزام لگانے کا کوئی فائدہ نہیں۔“

Back to top button
Translate »