پیٹ کی خاطر ہتھیار اٹھائے تھے! مالی تنگی کی وجہ سے ماو¿ نواز لیڈر کی ماں اپنے بیٹے کا آخری دیدار بھی نہ کر سکیں

پیٹ کی خاطر ہتھیار اٹھائے تھے! مالی تنگی کی وجہ سے ماو¿ نواز لیڈر کی ماں اپنے بیٹے کا آخری دیدار بھی نہ کر سکیں

تقریباً 22 سال پہلے، دو وقت کی پیٹ بھر روٹی کی خاطر نوعمر سوریندر ناتھ اسکول سے ہی جنگلوں کی طرف نکل گئے تھے۔ ہاتھ میں ہتھیار اٹھانے کے بعد سی پی آئی (ماو¿ نواز) اسکواڈ میں ان کا نام سمیر سورین (Samir Soren) پڑا۔ وہ جنگل محل سے جھارکھنڈ چلے گئے اور وہاں سی پی آئی (ماو¿ نواز) کی اسپیشل زونل کمیٹی کے ممبر بن گئے۔ گھر چھوڑنے کے بعد ماں کی اپنے بیٹے سے جیتے جی دوبارہ ملاقات نہ ہو سکی، اور موت کے بعد بھی صرف غربت اور پیسے کی کمی کی وجہ سے وہ آخری دیدار نہ کر سکیں۔

پیر کی صبح جھارکھنڈ کے چائیباسا کے شمشان گھاٹ میں ہلاک ہونے والے ماو¿ نواز کمانڈر کی لاش کو ان کے بھائی ہلدھر سورین نے مکھ اگنی (آخری رسومات) دی۔ گزشتہ جمعرات کی دوپہر جھارکھنڈ کے سارنڈا جنگل میں مغربی سنگھ بھوم ضلع کے کیریبورو تھانہ کے تحت ک±مڈی علاقے میں مشترکہ فورسز کی گولیوں سے سمیر چھلنی ہو گئے تھے۔ ہفتہ کی صبح ان کی لاش برآمد ہوئی، جو جھارکھنڈ کے چائیباسا اسپتال کے مردہ خانے میں رکھی گئی تھی۔ آج جھارکھنڈ پولیس کے تعاون سے ہلاک ہونے والے ماو¿ نواز کمانڈر کی آخری رسومات ادا کی گئیں، جس میں جنوبی بانکوڑہ کے باریک±ل تھانے کی پولیس بھی موجود تھی۔

جنوبی بانکوڑہ کے باریک±ل تھانہ کے اندکڑی کے رہائشی اور سمیر کے بھائی ہلدھر سورین نے کہا، "میں نے پہلے ہی پولیس کو بتا دیا تھا کہ مجھ میں اتنی سکت نہیں کہ بھائی کی لاش گاو¿ں لے جا سکوں۔ جھارکھنڈ پولیس نے بھائی کو گولی ماری ہے، انہیں ہی تدفین یا آخری رسومات کا انتظام کرنا ہوگا۔”

اندکڑی گاو¿ں میں سمیر کا ایک چھوٹا سا گھر ہے۔ جب سمیر نے گھر چھوڑا تو ان کی عمر 13 سال تھی اور وہ آٹھویں جماعت پاس کر چکے تھے۔ اس وقت ان کا بھائی ہلدھر صرف 7 سال کا تھا، جسے اس وقت کی کوئی بات یاد نہیں۔ گھر چھوڑنے کے تقریباً 8 سال بعد سمیر ایک بار گھر آئے تھے۔ بھائی سے تو ملاقات ہوئی لیکن ماں سے نہ ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ماں پھول منی سورین اپنے بڑے بیٹے سمیر کی لاش دیکھ کر اسے پہچان نہ سکیں، یہاں تک کہ وہ وردی میں ان کی تصویر کو بھی نہ پہچان پائیں۔ وہ یقین ہی نہیں کر پا رہی تھیں کہ ان کا بیٹا مر چکا ہے، کیونکہ اس سے پہلے بھی کئی بار جھارکھنڈ پولیس نے ان کے بیٹے سوریندر ناتھ عرف سمیر کی موت کا اعلان کیا تھا اور بعد میں اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے دوبارہ اس کے نام وارنٹ جاری کیا تھا۔ لیکن اتوار کو جب کھاتڑا سب ڈویڑنل پولیس افسران اور باریک±ل تھانے کی پولیس ان کے گھر پہنچی تو وہ ہکا بکا رہ گئیں۔

Back to top button
Translate »