اپوزیشن ارکان کا پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج

اپوزیشن ارکان کا پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج

نئی دہلی: کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے جمعہ کو مختلف مسائل پر پارلیمنٹ کے احاطے میں زوردار احتجاج کیا۔ اس احتجاج کے پیچھے تین اہم وجوہات تھیں: امریکہ کے ساتھ بھارت کا تجارتی معاہدہ، سابق فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نروَنے کی غیر شائع شدہ یادداشت (Memoirs) سے جڑا حالیہ تنازع، اور لوک سبھا سے آٹھ ارکان کی معطلی۔

احتجاج کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:

نعرے بازی اور مظاہرہ: لوک سبھا کی کارروائی پیر تک ملتوی ہونے کے بعد، ارکان پارلیمنٹ ہاؤس کے ‘مکر دروازے’ پر جمع ہوئے۔ انہوں نے "آمریت نہیں چلے گی” اور "جمہوریت کا قتل بند کرو” جیسے نعرے لگائے۔

راہل گاندھی کا طنز: قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے جنرل نروَنے کی کتاب کے ایک اقتباس کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی پر طنز کیا اور کہا، "جو مناسب سمجھو، وہ کرو۔”

مرکزی قیادت کی شرکت: اس احتجاج میں کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا اور معطل شدہ ارکان سمیت کئی اہم لیڈران شریک تھے۔ ارکان نے ایک بڑا بینر اٹھا رکھا تھا جس پر بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کو "ٹریپ ڈیل” (Trap Deal) قرار دیا گیا تھا۔

مانیکم ٹیگور کا بیان: کانگریس کے وہِپ مانیکم ٹیگور نے الزام لگایا کہ وزیرِ اعظم مودی لوک سبھا میں آنے سے خوفزدہ ہیں اور بیرونی دباؤ میں آ گئے ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت کی "ناکامیوں” کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔

پس منظر: پیر سے ہی ایوان میں تعطل برقرار ہے۔ اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ راہل گاندھی کو جنرل نروَنے کی یادداشت کے حوالے سے چین کے ساتھ تصادم کا معاملہ اٹھانے کی اجازت دی جائے، جسے مسترد کر دیا گیا۔ اس ہنگامے کے دوران اپوزیشن کے آٹھ ارکان کو معطل کر دیا گیا اور جمعرات کو وزیرِ اعظم کے جواب کے بغیر ہی صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک منظور کر لی گئی۔

Back to top button
Translate »