پونے میں بنگالی مزدور پر ہجومی حملہ

، ممتا بنرجی نے کہا، زینوفوبیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا

پونے میں بنگالی مزدور پر ہجومی حملہ
کولکاتا12فروری : مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جمعرات کو پورلیا کے رہنے والے ایک 24 سالہ مزدور سکھین مہتو کی مبینہ لنچنگ پر غم و غصے کا اظہار کیا۔ سکھین مہتو کے ساتھ یہ واقعہ مہاراشٹر کے پونے میں پیش آیا جہاں وہ مزدوری کرتے تھے۔
ممتا بنرجی نے اس واقعے کو "نفرت انگیز جرم” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ متاثرہ کو اس کی بنگالی زبان اور شناخت کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا اور اس طرح کے حملوں کے لیے ‘زینو فوبیا’ (اجنبیوں اور دوسری ثقافتوں سے شدید نفرت) کے ماحول کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے اس معاملے میں قصورواروں کو فوراً گرفتار کرکے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں ممتا نے لکھا کہ "میں پرولیا کے بندوان سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ مہاجر مزدور سکھین مہاتو کے مہاراشٹر کے پونے میں وحشیانہ قتل سے لرز اٹھی، غصے اور صدمے میں ہوں، جو کہ اپنے خاندان میں اکیلے کمانے والے تھے۔”انہوں نے مزید لکھا کہ ”یہ کسی نفرت انگیز جرم سے کم نہیں ہے۔ ایک نوجوان کو اس کی زبان، اس کی شناخت، اس کی جڑوں کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا، تشدد کیا گیا اور قتل کر دیا گیا۔ یہ اس ماحول کا براہ راست نتیجہ ہے جہاں زینو فوبیا کو ہتھیار بنایا جاتا ہے، اور بے گناہوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔”انہوں نے پوسٹ میں لکھا کہ "میں مجرموں کی فوری گرفتاری اور سخت ترین سزا کا مطالبہ کرتی ہوں اور سکھین کے اہل خانہ سے کہنا چاہتی ہوں کہ اس ناقابل تصور غم کی گھڑی میں پورا مغربی بنگال آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔ انصاف کے حصول کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔بنگال کے مہاجر مزدورں کو دیگر ریاستوں میں نشانہ بنائے جانے کے اس طرح کے متعدد واقعات میں یہ تازہ ترین اضافہ ہے۔ زبان، مذہب یا شناخت کی بنیاد پر رونما ہونے والے ان پ±رتشدد واقعات نے بڑے سیاسی اور قانونی تنازعات کو جنم دیا ہے۔ترنمول کانگریس نے ماضی قریب میں الزام لگایا کہ بی جے پی لیڈروں نے "جان بوجھ کر بنگالی بولنے والے بھارتی شہریوں کو درانداز، بیرونی اور مشتبہ قرار دے رہے ہیں۔

Back to top button
Translate »