زکریا اسٹریٹ کی رونق: کولکتہ میں رمضان کا جشن اور ذائقوں کی محفل
زکریا اسٹریٹ کی رونق: کولکتہ میں رمضان کا جشن اور ذائقوں کی محفل

جاوید اختر | کولکتہ
رمضان 2026 کا پاک مہینہ اب بس چند قدم ہی دور ہے، اور کولکتہ کی گلیاں، بازار اور محلے پہلے ہی اس مقدس مہینے کی رونق سے جگمگا اٹھے ہیں۔ خاص طور پر شہر کے مسلم اکثریتی علاقوں میں تیاریاں اپنے عروج پر ہیں، جہاں دکانداروں نے رمضان کی خریداری کے لیے اپنی دکانوں میں مال بھر لیا ہے۔ لیکن اس بار کی تیاریاں صرف بازاروں تک محدود نہیں ہیں۔ شہر ‘سٹی آف جوائے’ کا یہ مہینہ ہر مذہب اور طبقے کے لوگوں کو ایک ساتھ لانے والی علامت بن گیا ہے۔
کولکتہ میں زکریا اسٹریٹ، نیو مارکیٹ، کولوٹولہ، پارک سرکس، راجہ بازار اور مٹیا برج جیسے علاقوں میں رمضان کے دوران دن رات کی رونق دیکھنے کے لائق ہوتی ہے۔ دن عبادت اور تیاریوں میں گزرتا ہے، تو رات کو لوگ خریداری اور پکوانوں سے لطف اندوز ہونے میں جت جاتے ہیں۔ خاص طور پر زکریا اسٹریٹ، جسے شہر کا ‘فوڈ پیراڈائز’ کہا جاتا ہے، اس پاک مہینے میں پوری طرح زندہ ہو اٹھتی ہے۔
زکریا اسٹریٹ کی سب سے بڑی پہچان یہاں واقع تاریخی ‘ناخدا مسجد’ ہے۔ سرخ پتھروں سے بنی اس عظیم الشان مسجد کا طرزِ تعمیر مغل دور کی یاد دلاتا ہے اور رمضان میں یہاں اجتماعی افطار کا منظر دیدنی ہوتا ہے۔ ہزاروں لوگ ایک ساتھ دسترخوان پر بیٹھتے ہیں، اور یہ منظر شہر کی ‘گنگا جمنی تہذیب’ اور باہمی بھائی چارے کا سب سے بڑا ثبوت بن جاتا ہے۔ رمضان کے دوران زکریا اسٹریٹ دھوئیں اور خوشبوو¿ں کے سمندر میں ڈوب جاتی ہے۔ شام کے وقت یہاں کے کباب، حلیم، مٹھائیاں اور افطاری کے پکوان نہ صرف مقامی لوگوں کے لیے بلکہ سیاحوں اور فوڈ بلاگرز کے لیے بھی کشش کا مرکز بن جاتے ہیں۔
مشہور ہوٹلوں میں ‘آدم کباب شاپ’ کے ستلی کباب، ‘صوفیہ’ کا حلیم اور تافتان، ‘دہلی 6’ کا افغانی چکن، اور ‘حاجی علاو¿الدین’ کا شاہی ٹکڑا اور گوند کے لڈو پورے بنگال میں مشہور ہیں۔ ان پکوانوں کی خصوصیت ان کا روایتی ذائقہ اور بنانے کا منفرد طریقہ ہے۔ مثال کے طور پر، ‘آدم کے ستلی کباب’ کو کچے پپیتے اور خفیہ مصالحوں کے ساتھ اتنا گلایا جاتا ہے کہ یہ سیخ پر ٹک نہیں پاتے۔ انہیں گرنے سے بچانے کے لیے باریک دھاگہ یعنی ‘ستلی’ باندھ دی جاتی ہے۔ پہلا نوالہ لیتے ہی ذائقے کی ایک الگ ہی دنیا کا تجربہ ہوتا ہے۔
لیکن اس بار رمضان کی تیاریوں پر مہنگائی کا سایہ منڈلا رہا ہے۔ پھل، کھجور، کیلا، تربوز اور سیب کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 سے 40 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔ خوردنی تیل، دالیں، مصالحے اور گوشت کے بڑھتے ہوئے دام متوسط اور غریب طبقے کے خاندانوں کی کمر توڑ رہے ہیں۔ اس وجہ سے لوگ اپنے پسندیدہ پکوانوں میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہیں۔ جو حلیم اور کباب کبھی ہر خاص و عام کی پہنچ میں تھے، اب وہ صرف ایک خاص بجٹ تک ہی محدود رہ گئے ہیں۔
اس مہنگائی کے باوجود زکریا اسٹریٹ کی گلیوں اور ہوٹلوں کی چہل پہل کم نہیں ہوئی ہے۔ دکاندار اسٹاک بھرنے اور گاہکوں کو متوجہ کرنے میں مصروف ہیں، تو خریدار سستے اور اچھے مال کی تلاش میں بازاروں اور آن لائن پلیٹ فارمز کا رخ کر رہے ہیں۔ پندرہ رمضان تک ہول سیل سپلائی اپنے عروج پر ہوتی ہے، جس کے بعد باقی مال آدھے رمضان تک پہنچا دیا جاتا ہے۔
کولکتہ کے رمضان کا یہ ماحول صرف خریداری اور پکوانوں تک محدود نہیں ہے۔ یہ شہر کی روحانی پہچان اور ثقافتی تنوع کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ نورِ بصیرت اور رحمتوں کے اس مہینے میں گلیاں عبادت کی خوشبو اور افطاری کے ذائقوں سے مہک اٹھتی ہیں۔ زکریا اسٹریٹ اور ناخدا مسجد کے گرد و نواح کا علاقہ اس مقدس مہینے میں ایک بڑے میلے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہاں کپڑے، عطر، ٹوپی اور جوتوں کے سینکڑوں عارضی اسٹال لگتے ہیں اور لوگ سحری تک خریداری کرتے نظر آتے ہیں۔
رمضان صرف مسلمانوں کا تہوار نہیں ہے۔ زکریا اسٹریٹ پر شام ہوتے ہی ہر مذہب اور برادری کے لوگ— چاہے وہ بنگالی ہندو ہوں، مارواڑی ہوں یا اینگلو انڈین— خوشی خوشی افطاری کے پکوانوں سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں۔ یہ کولکتہ کی کثیر الثقافتی زندگی اور ‘گنگا جمنی تہذیب’ کا زندہ ثبوت ہے۔ لوگ اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ کھانے بانٹتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مسکراہٹ اور بھائی چارے کا رشتہ برقرار رکھتے ہیں۔
مقامی انتظامیہ اور حکومت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ بازاروں میں قیمتوں پر قابو رکھیں۔ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی ہو، تاکہ اس مقدس مہینے کی خوشیاں معاشرے کے ہر طبقے تک معاشی بوجھ کے بغیر پہنچ سکیں۔ کولکتہ کی رمضان مارکیٹ، خاص طور پر زکریا اسٹریٹ کی تاریخی گلیاں، ہر سال اس امید کے ساتھ جگمگاتی ہیں کہ یہاں آنے والا ہر شخص اطمینان اور مسکراہٹ کے ساتھ گھر لوٹے۔ مہنگائی نے بھلے ہی جیب پر بوجھ ڈالا ہو، لیکن وہ لوگوں کی عقیدت، بھائی چارے اور خدمتِ خلق کے جذبے کو کم نہیں کر سکی۔ رمضان کے اس پاک مہینے میں زکریا اسٹریٹ شہر کی روح کی علامت بن کر ہر کسی کے دل میں رونق بھرتی ہے۔
کولکتہ کا رمضان محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ‘سٹی آف جوائے’ کی اس مشترکہ تہذیب کا عکاس ہے جہاں ہر مذہب کے لوگ دسترخوان پر ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ 2026 کا رمضان قریب آتے ہی زکریا اسٹریٹ، ناخدا مسجد اور کولو ٹولہ جیسے علاقے روشنیوں اور خوشبوو¿ں سے مہک اٹھے ہیں۔
تاریخی ناخدا مسجد اور اجتماعی افطار
زکریا اسٹریٹ کا مرکز ‘ناخدا مسجد’ اپنی مغلئی طرزِ تعمیر کے ساتھ یہاں کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ رمضان میں یہاں کا اجتماعی افطار بھائی چارے کی ایک ایسی مثال پیش کرتا ہے جہاں ہزاروں لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر روزہ کشائی کرتے ہیں۔
ذائقوں کا سمندر
زکریا اسٹریٹ اس مہینے میں دنیا بھر کے فوڈ بلاگرز اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔ یہاں کے مشہور پکوانوں میں شامل ہیں:
آدم کباب شاپ: یہاں کے ‘ستلی کباب’ اتنے نرم ہوتے ہیں کہ انہیں سیخ پر روکنے کے لیے دھاگا (ستلی) باندھنا پڑتا ہے۔
صوفیہ ہوٹل: یہاں کا حلیم اور تافتان پورے بنگال میں اپنی مثال آپ ہے۔
حاجی علاو¿الدین: میٹھے کے شوقین افراد کے لیے یہاں کا شاہی ٹکڑا اور گوند کے لڈو کسی نعمت سے کم نہیں۔
مہنگائی کا سایہ
اس سال پھلوں اور بنیادی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 30 سے 40 فیصد اضافے نے عام آدمی کی جیب پر بوجھ ڈالا ہے، لیکن اس کے باوجود لوگوں کی عقیدت اور جوش و خروش میں کوئی کمی نہیں آئی۔ بازار سحری تک خریداروں سے بھرے رہتے ہیں۔
گنگا جمنی تہذیب کا نمونہ
زکریا اسٹریٹ کی خاص بات یہ ہے کہ شام ہوتے ہی یہاں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ بنگالی ہندو، مارواڑی اور اینگلو انڈین کمیونٹی کے لوگ بھی افطاری کے پکوانوں کا لطف لینے پہنچ جاتے ہیں۔ یہ اتحاد کولکتہ کی روح کو زندہ رکھتا ہے۔

