دیگھا کے جگناتھ مندر کو بی جے پی سرکاری مندر قرار دے رہی ہے
دیگھا کے جگناتھ مندر کو بی جے پی سرکاری مندر قرار دے رہی ہے
دیگھا کے اس مندر کا افتتاح اپریل 2025 میں بڑی دھوم دھام سے کیا گیا تھا، جسے ترنمول کانگریس نے بی جے پی کے ‘رام مندر’ کے جواب میں اپنی ‘نرم ہندوتوا’ (Soft Hindutva) سیاست کے طور پر پیش کیا تھا۔ تاہم، موجودہ اسمبلی انتخابات (2026) کی مہم میں اس کا تذکرہ اب بہت کم ہو گیا ہے۔بی جے پی اور اپوزیشن لیڈر شبھیندو ادھیکاری نے اسے "سرکاری مندر” قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سرکاری فنڈز سے مندر نہیں بنائے جا سکتے اور اسے محض ایک "ثقافتی مرکز” (Cultural Centre) کہنا چاہیے۔
بی جے پی مہم چلا رہی ہے کہ ممتا بنرجی "جعلی ہندو” ہیں جو انتخابات جیتنے کے لیے بھگوان جگن ناتھ کا سہارا لے رہی ہیں۔ وہ پوری (Puri) کے مندر کی انفرادیت پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دیگھا کا مندر اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ترنمول کانگریس نے شروع میں "جے جگن ناتھ” کے نعرے کو بی جے پی کے "جے شری رام” کے توڑ کے طور پر استعمال کیا تھا، لیکن اب وہ زیادہ تر اپنی ترقیاتی اسکیموں اور "ماتری شکتی” جیسے پروگراموں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے تاکہ مذہبی پولرائزیشن کے الزامات سے بچا جا سکے۔
پوری مندر کے کچھ اہم خادموں نے ممتا بنرجی کے حق میں دعا کی ہے، جبکہ کچھ دوسروں نے بی جے پی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگال کے لوگ اب تبدیلی چاہتے ہیں۔
اگرچہ افتتاح کے وقت دیگھا اور کولکتہ میں بڑے بڑے ہورڈنگز لگے تھے، لیکن اب یہ معاملہ قانونی اور مذہبی تنازعات میں گھر گیا ہے۔ حکمران جماعت اسے زیادہ اچھالنے سے گریز کر رہی ہے تاکہ "سرکاری پیسے کے مذہبی استعمال” پر ہونے والی تنقید کو ہوا نہ ملے، جبکہ بی جے پی اسے ممتا بنرجی کی انتخابی "گیمک” (Gimmick) قرار دے رہی ہے۔

