آنکھوں کے سامنے بھڑکتی آگ نے چار زندگیوں کو نگل لیا

آنکھوں کے سامنے بھڑکتی آگ نے چار زندگیوں کو نگل لیا

اولوبیریا: آنکھوں کے سامنے بھڑکتی آگ نے چار زندگیوں کو نگل لیا۔ آگ بجھانے کی کوششیں تو کی گئیں لیکن کوئی اندر داخل نہ ہو سکا۔ اس ہولناک واقعے کے بعد، متوفی دودھ کمار دلوئی کا بیٹا سنجو بالآخر گھر پہنچ گیا۔ پیر کی رات تقریباً تین بجے وہ براہِ راست اولوبیریا کے باو¿ریا پہنچا، جہاں خاندان کے تمام افراد کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ سنجو نے اس واقعے کے پیچھے کسی سازش کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے اور وہ پولیس میں شکایت درج کرانے پر غور کر رہا ہے۔
غم سے نڈھال سنجو نے بتایا:”میری ماں سے روز بات ہوتی تھی۔ اتوار کی شام کو بھی بات ہوئی تھی، لیکن مصروفیت کی وجہ سے زیادہ دیر بات نہ کر سکا۔ پھر صبح چھوٹی خالہ نے اس حادثے کی اطلاع دی، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔“اس نے بتایا کہ والد کی آمدنی زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ پکا مکان نہیں بنا سکے تھے۔ والدین کے چہرے پر خوشی لانے کے لیے سنجو چھوٹی عمر میں ہی کام کے لیے باہر چلا گیا تھا اور اپنی کمائی سے تھوڑے تھوڑے پیسے والدین کو بھیجتا تھا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سنجو کے والد نے حال ہی میں گھر کے لیے کچھ تعمیراتی سامان بھی خریدا تھا۔ سنجو نے روتے ہوئے کہا: ”جن کے چہرے پر خوشی لانے کے لیے اتنی محنت کر رہا تھا، وہی چلے گئے۔ اب کیا کروں گا۔ بہرحال، سر چھپانے کے لیے ٹھکانہ تو بنانا ہی پڑے گا، وہ آہستہ آہستہ کروں گا۔“
سنجو نے اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ مزید کام کے لیے باہر (دوسری ریاست) نہیں جائے گا، بلکہ اب کولکتہ یا اس کے آس پاس ہی رہ کر کام کرنے کی کوشش کرے گا۔
Back to top button
Translate »