بنگال کے چناﺅ میں بھوتوںکے ووٹ ایک متنازع اور جانی پہچانی اصطلاح ہے
بنگال کے چناﺅ میں بھوتوںکے ووٹ ایک متنازع اور جانی پہچانی اصطلاح ہے
مغربی بنگال کے انتخابی تناظر میں ’بھوتوں کے ووٹ‘ ایک انتہائی متنازع اور جانی پہچانی اصطلاح ہے۔’بھوتوں کے ووٹ’ کا اصل مطلب کیا ہے؟سادہ الفاظ میں، جب کوئی ووٹر پولنگ اسٹیشن پہنچنے سے پہلے ہی اس کا ووٹ کوئی اور ڈال چکا ہو، یا کسی مردہ یا غیر حاضر شخص کے نام پر ووٹ ڈالا جائے، تو اسے سیاسی زبان میں ‘بھوتوں کا ووٹ’ کہا جاتا ہے۔ بزرگ شہری کے بیان کے مطابق—کمرے میں کسی ووٹر کی موجودگی کے بغیر ای وی ایم (EVM) سے بیپ کی آواز آنے کا مطلب یہ ہے کہ ووٹنگ کے عمل کی رازداری اور شفافیت کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
یہاں ‘ایس آئی آر’ سے مراد غالباً Special Investigation Report یا الیکشن کمیشن کا خصوصی نگرانی کا نظام ہے۔ انتخابی عمل میں شفافیت لانے کے لیے کمیشن کئی اقدامات کرتا ہے: بوتھ کے اندر کی سرگرمیوں کو براہ راست سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے دیکھنا۔ہر بوتھ پر غیر جانبدار مبصرین کا تقرر۔ ووٹروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے بوتھ کے باہر مرکزی فورسز کی تعیناتی۔تاہم اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ جب تک بوتھ کے اندر کی ‘پوشیدہ دھاندلی’ یا ووٹروں کو ڈرانا دھمکانا بند نہیں ہوتا، تب تک صرف رپورٹس کے ذریعے اس روایت کو مکمل طور پر ختم کرنا مشکل ہے۔انتخابات میں ‘ووٹوں کی لوٹ مار’ یا ‘انتخابی دھوکہ دہی’ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اپوزیشن کے مطابق:اگر شفاف ووٹنگ ہو اور ‘بھوتوں کے ووٹ’ روکے جائیں، تب ہی حقیقی عوامی رائے سامنے آئے گی۔انہیں امید ہے کہ مرکزی ایجنسیوں کی سخت نگرانی اور ووٹروں کی بھرپور شرکت سے ریاست یا مخصوص علاقوں میں سیاسی مساوات بدل سکتی ہے (جسے ‘پالا بدل’ یا اقتدار کی تبدیلی کہا جا رہا ہے)۔

