باروئی پور واقعہ ، چھوٹے سے جسم پر تشدد کے کافی نشانات پائے گئے
باروئی پور واقعہ ، چھوٹے سے جسم پر تشدد کے کافی نشانات پائے گئے
ہفتہ کو دوست کی سالگرہ کا تحفہ خریدنے کے لیے محلے کی دکان پر گئی تھی ۱۱ سال کی چھوٹی سی بچی۔ پھر تالاب سے نکالی گئی لاش۔ اتوار کو ہی ۱۱ سالہ نابالغہ کے وحشیانہ انجام کے خلاف باروئی پور گرم ہو گیا۔ اس ماحول میں سامنے آئی پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ۔ وہ رپورٹ جس کے ہر پہلو میں خوفناک تشدد کے اشارے ہیں۔ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جسمانی تشدد کے بعد سر پر چوٹ لگا کر بچی کو بوری میں ڈال کر تالاب میں پھینکا گیا۔ صرف یہی نہیں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب اسے تالاب میں پھینکا گیا، تب بھی وہ زندہ تھی۔ ذرائع کے مطابق، بچی کے سر پر زخم ہیں۔ کسی بھاری چیز سے ضرب لگنے یا کسی جگہ سر ٹکرانے سے یہ زخم پیدا ہوئے ہیں۔ اس کے جنسی اعضائ پر چوٹ کے نشانات واضح ہیں۔
اتوار ہی کو زخموں سے لبریز بے جان نابالغہ کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجی گئی تھی۔ اتنی چھوٹی بچی پر کیسے تشدد کیا گیا، پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں سنسنی خیز اشارے ہیں۔ جسم پر متعدد کھرچنے اور کاٹنے کے نشانات ہیں۔ رپورٹ میں اہم طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ نابالغہ کو اینٹی مارٹم ڈراو¿ننگ یعنی سر پر چوٹ لگا کر بے ہوشی کی حالت میں تالاب میں پھینکا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، اس نابالغہ کے پیٹ اور پھیپھڑوں میں پانی گھس جانے سے وہ پھول گئے ہیں۔ سر کے زخم سے زیادہ خون بہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانی میں ڈوبنے سے ہی نابالغہ کی موت ہوئی۔

