باروئی پور عصمت دری اور قتل کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی دھڑ پکڑ جاری

باروئی پور عصمت دری اور قتل کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی دھڑ پکڑ جاری

باروئی پور نابالغ زیادتی اور قتل کیس میں ریاستی حکومت نے ایک کے بعد ایک بے مثال اقدامات کیے ہیں۔ ‘بے قصور’ اندرجیت کو پیٹ پیٹ کر قتل کرنے کے واقعہ کی تحقیقات میں بھی انتظامیہ متحرک ہے۔ اس واقعہ میں پولیس نے مزید ۳ افراد کو گرفتار کیا۔ جمعہ کی گہری رات باروئی پور ضلع پولیس، ایس ٹی ایف اور اسپیشل آپریشن گروپ کی مشترکہ فورس کی تلاشی میں انہیں پکڑا گیا۔ اس کے نتیجے میں اب گرفتار افراد کی تعداد بڑھ کر ۳۸ ہو گئی۔
چار منزلہ کرائے کے مکان میں سوریا پور ہاٹ کے قریب نئی چوکی کا افتتاح کریں گے۔ اس چوکی میں دوسری منزل پر ‘آوٹ پوسٹ انچارج’ اور شکایت درج کرانے کے لیے علیحدہ کمرے ہوں گے۔ خواتین پولیس افسر بھی باقاعدگی سے بیٹھیں گی۔ لاک اپ اور تیسری منزل پر ریزرو فورس کے قیام کے لیے خصوصی کیمپ بھی ہوگا۔ گزشتہ منگل کو باروئی پور پولیس سپرنٹنڈنٹ آفس میں اجلاس کے بعد مظلومہ نابالغ کے خاندان کی تجویز مان کر انہوں نے اعلان کیا تھا کہ مقتولہ مظلومہ کے گھر کے قریب سوریا پور میں پولیس چوکی بنے گی۔ درحقیقت اس اعلان کے مطابق محض چار دنوں میں سوریا پور ہاٹ کے قریب ہی نئی چوکی کی تعمیر کا کام جنگی طور پر مکمل کر لیا گیا۔وزیر اعلیٰ مظلومہ اور پیٹ پیٹ کر قتل ہونے والے ‘بے قصور’ اندرجیت منڈل کے گھر جا کر خاندان سے بھی بات کریں گے۔ ذرائع کے مطابق، ریاستی حکومت کی طرف سے خصوصی امداد بھی دی جا سکتی ہے۔وزیر اعلیٰ کے دورے سے قبل جمعہ کو پیٹ پیٹ کر قتل ہونے والے اندرجیت منڈل اور مظلومہ نابالغ کے گھر کا دورہ کیا آئی جی (پریزیڈنسی رینج) کنکر پرساد باروئی نے۔ صرف یہی نہیں، وزیر اعلیٰ کی آمد سے قبل انتظامیہ کی طرف سے اندرجیت کے گھر کی مرمت کے لیے ایک سے زیادہ راج میستری لگا کر مرمت کروائی گئی۔ متعدد سی سی کیمرے بھی نصب کیے گئے۔ باروئی پور تھانے سے ان کیمروں کے ذریعے پوری نگرانی کی جائے گی۔اس کے علاوہ، باروئی پور کے پھلتلا میں پرسنجیت بسواس نامی نوجوان کو جو قتل کیا گیا تھا، اس کے خاندان سے بھی وزیر اعلیٰ ملاقات کریں گے۔ باروئی پور پولیس سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں ان کے خاندان کو بلایا گیا ہے۔ ان سے بات کریں گے۔

Back to top button
Translate »