ستا میں سیلاب روکنے کے لیے60 کلومیٹر تلچھٹ نکالنے کا فیصلہ

ستا میں سیلاب روکنے کے لیے60 کلومیٹر تلچھٹ نکالنے کا فیصلہ

بالآخر تیستا ندی کی کھدائی کی منصوبہ بندی کو منظوری مل گئی۔ تیستا ندی کی گہرائی بڑھانے کے لیے گزشتہ دو سالوں سے آبپاشی محکمے کی شمال مشرقی شاخ منصوبے پر عمل درآمد کی کوشش کر رہی تھی۔ دو برساتوں کے بعد بالآخر تیستا ندی کی گہرائی بڑھانے کی منصوبہ بندی کو منظوری مل گئی۔ اس برسات کے دوران ہی آبپاشی محکمے نے کام کی منظوری دے دی ہے۔ آبپاشی محکمے نے بتایا کہ اکتوبر میں برسات کے خاتمے کے ساتھ ہی تیستا کی کھدائی کا کام شروع ہو جائے گا۔ تیستا کے ساتھ ہی جھالدا کا اور کرالا ندیوں کی کھدائی کا کام بھی شروع ہو جائے گا۔ آبپاشی محکمے نے تیستا کے علاوہ ان دو ندیوں کی کھدائی کے لیے بھی ورک آرڈر جاری کر دیے ہیں۔
2023میں سکم کے پہاڑوں میں خوفناک قدرتی آفت کے اثرات تیستا پر پڑے۔ پہاڑوں سے آنے والی ریت، گاد اور پتھروں کی تہہ نے ندی کی گہرائی کم کر دی اور وہ بے قابو ہو گئی۔ اس سے ندی کے کنارے واقع لال ٹونگ بستی اور چمک ڈانگی گاو¿ں تباہ ہو گئے۔ برسات کے دوران لوگوں کو بچا کر منتقل کیا گیا اور انتظامیہ نے انہیں دوبارہ آباد کرنے کا انتظام کیا۔ بے قابو ہوتی ندی کو اس کے اصل راستے پر لانے کے لیے اسی سال آبپاشی محکمے نے ریاستی حکومت کو تیستا ندی کی کھدائی کی تجویز پیش کی۔ ندی کے ماہرین کے ساتھ طویل سروے کے بعد منصوبہ منظوری کے لیے بھیجا گیا۔ بالآخر وہ منظوری آ گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ تیستا ندی کے بستر میں کھدائی کے کام کے لیے ندی کو کئی حصوں میں تقسیم کرکے ٹینڈر کا عمل جاری ہے۔ تیستا ندی کے سیوک پہاڑ کے دامن سے شروع ہو کر مال، راج گنج، سدر بلاک سے ہوتے ہوئے مینا گوڑی تک پہلے مرحلے میں ۶۰ کلومیٹر ندی کی کھدائی کی جائے گی۔

Back to top button
Translate »