کب اسکول کریں گے اور کب گھر جائیں گے؟’ مردم شماری کے کام میں اساتذہ کی تعیناتی پر ہائی کورٹ کا ریاست سے سوال

کب اسکول کریں گے اور کب گھر جائیں گے؟' مردم شماری کے کام میں اساتذہ کی تعیناتی پر ہائی کورٹ کا ریاست سے سوال

کولکتہ ہائی کورٹ نے اسکول کے اساتذہ کو بڑی تعداد میں مردم شماری کے کام میں شامل کرنے پر سوال اٹھایا ہے۔ جمعہ کو اس سلسلے میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس کرشنا راو¿ نے ریاست کے فیصلے پر سوال اٹھائے۔ جسٹس کا مشاہدہ تھا کہ ریاست ایک ساتھ بہت سے اساتذہ کو مردم شماری کے کام پر متعین کرنے کی بجائے چند افراد کو لے سکتی تھی، جس سے باقی اساتذہ اسکول کا کام سنبھال سکتے تھے۔
جو اساتذہ دور سے اپنے کام کی جگہ آتے ہیں، کیا ان کے لیے اسکول کا کام مکمل کر کے مردم شماری کا کام کرنا ممکن ہے، جمعہ کو ہائی کورٹ نے ریاست سے یہ بھی پوچھا۔ جسٹس نے کہا، "اساتذہ کب اسکول کریں گے اور کب مردم شماری کا کام کریں گے؟” سرکاری اسکول کے اساتذہ کے ایک گروپ نے اس سلسلے میں مقدمہ دائر کیا تھا۔
بہت سے اساتذہ کو اپنے کام کی جگہ سے کافی دور جا کر مردم شماری کا کام کرنا پڑ رہا ہے، جس پر جسٹس راو¿ نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ریاست کے وکیل سے کہا، "مردم شماری کے کام پر تعینات کرنے سے پہلے بائیو ڈیٹا کی جانچ کیوں نہیں کی؟ اساتذہ کہاں سے کام پر آ رہے ہیں، یہ کیوں نہیں دیکھا؟”
ریاست کے وکیل نے بتایا کہ مردم شماری ایک انتہائی اہم کام ہے اور تمام ریاستوں میں یہ ہو رہا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ کہیں اور اتنی مشکلات نہیں ہیں۔ جسٹس نے ریاست کے وکیل سے کہا، "اساتذہ ہفتہ کو بھی کلاس لیتے ہیں۔ وہ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک اسکول میں ہوتے ہیں۔ پھر انہیں مردم شماری کے کام کے لیے وقت کہاں سے ملے گا؟” ریاست کے وکیل نے بتایا کہ اساتذہ شام 4 بجے تک اسکول میں نہیں رہتے۔ جسٹس نے ریاست سے پوچھا کہ کیا وہ اس معلومات کو عدالت میں درج کرانا چاہتے ہیں۔

Back to top button
Translate »